مومن کا طریقہ
Urdu book, p. 228
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ تم نے صرف میری مخالفت کے لیے ایسا کہا ہے۔ عمر نے جواب دیا کہ میرا مقصد تمہاری مخالفت نہیں۔ پھر دونوں بحث کرنے لگے۔ یہاں تک کہ ان کی آوازیں اونچی ہو گئیں۔ اس پر آیت اتری کہ: اے ایمان والو، تم اللہ اور اس کے رسول کے آگے نہ بڑھو۔ اور اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ اے ایمان والو، تم اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اوپر مت کرو... ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال حبط ہو جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو (49:1-2)۔ ابن الزبیر کہتے ہیں کہ اس کے بعد عمر کا یہ حال ہوا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس طرح بولتے کہ پوری طرح سنائی نہ دیتا اور رسول اللہ دوبارہ پوچھتے کہ تم نے کیا کہا: فَمَا كَانَ عُمَرُ يُسْمِعُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ حَتَّى يَسْتَفْهِمَهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4845 ، 7302 )۔ یہی مومن کا طریقہ ہے۔ مومن بے خبری میں خدا اور رسول کی آواز پر اپنی آواز بلند کر سکتا ہے۔ مگر جیسے ہی اس کو بتایا جائے وہ فوراً اپنی آواز پست کر لیتا ہے۔ وہ اپنی آواز کو خدا و رسول کی آواز کے مقابلہ میں نیچا کر لیتا ہے۔ یہ صرف زمانہ رسول کی بات نہیں۔ آج بھی اہل ایمان سے یہی مطلوب ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے براہِ راست رسول خدا کے ذریعہ اس کو متنبہ کیا جاتا تھا۔ آج قرآن و حدیث کے حوالے سے کوئی دوسرا متنبہ کرنے والا اس کو متنبہ کرے گا۔ آج بھی جب کسی کے سامنے خدا اور رسول کا حکم بیان کیا جائے تو اس کو اپنی آواز اسی طرح پست کر لینا چاہیے جس طرح دورِ اول کے اہل ایمان نے اس کے مقابلہ میں اپنی آواز کو پست کر لیا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader