Urdu book · دینِ انسانیت

پہچان کا فرق

Urdu book, p. 229

By Maulana Wahiduddin Khan

پہچان کا فرق مکی دور کے آخر میں جو واقعات پیش آئے، ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ ایک بار قریش مکہ کے سردار کعبہ کے اندر جمع ہوئے۔ انہوں نے باہمی مشورہ سے یہ طے کیا کہ محمد کو بلا کر ان کے سامنے کچھ مطالبے رکھے جائیں۔ اگر وہ ان مطالبوں کو پورا کریں تو ہم لوگ ان کا پیغمبر ہونا مان لیں۔ اور اگر وہ ان مطالبوں کو پورا نہ کریں تو ہمارے لیے ان کو رد کرنے کا معقول عذر ہو جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا۔ اس موقع پر انہوں نے آپ سے جو مطالبے کیے، ان میں سے ایک مطالبہ یہ تھا: وَلْيَبْعَثْ لَنَا مَنْ مَضَى مِنْ آبَائِنَا، وَلْيَكُنْ فِيمَنْ يُبْعَثُ لَنَا مِنْهُمْ قُصَيُّ بْنُ كِلَابٍ، فَإِنَّهُ كَانَ شَيْخًا صَدُوقًا، فَنَسْأَلُهُمْ عَمَّا تَقُوْلُ، أَحَقٌّ هُوَ أَمْ بَاطِلٌ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 296)۔ یعنی، اپنے رب سے کہیے وہ ہمارے باپ دادا کو زندہ کر دے جو کہ گزر گئے۔ اور جن کو وہ زندہ کرے ان میں قصی بن کلاب بھی ضرور ہوں، کیونکہ وہ بزرگ اور سچے تھے۔ پس ہم ان سے اس کی بابت پوچھیں جو تم کہتے ہو کہ وہ حق ہے یا باطل ہے۔ یہاں یہ سوال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو تمام بزرگوں سے زیادہ بزرگ اور تمام سچے لوگوں سے زیادہ سچے تھے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ قدیم مکہ کے لوگوں کو قصی بن کلاب کا بزرگ اور سچا ہونا سمجھ میں آیا، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بزرگ اور سچا ہونا ان کی سمجھ میں نہ آسکا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قصی بن کلاب کی شخصیت ایک گزری ہوئی شخصیت تھی۔ زمانے کے ساتھ ان کی حیثیت لوگوں کی نظر میں مسلم ہو چکی تھی۔ اس کے مقابل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت ایک معاصر شخصیت تھی۔ آپ کی بزرگی اور سچائی، اپنی تمام تر رفعتوں کے باوجود، ابھی ایک شخص کے اندرونی جوہر کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس وقت تک وہ خارجی تاریخ کے ذریعہ معروف و مسلم نہیں بنی تھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page