Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 230

By Maulana Wahiduddin Khan

اہل کفر صرف خارجی تاریخ کو دیکھ سکتے تھے، وہ پیغمبر کو پہچانے میں نا کام رہے۔ اہل ایمان نے اندرونی جوہر کی سطح پر پہچانا، اس لیے وہ پیغمبر کو فوراً پہچان گئے اور آپ پر ایمان لائے۔ آنکھ والا صرف وہ ہے جو کسی انسان کو اس کے جوہر کی بنیاد پر پہچانے۔ وہ شخص اندھا ہے جو کسی انسان کو صرف اس وقت پہچانے جب کہ اس کے گرد تاریخ کی تصدیقات جمع ہو چکی ہوں۔ فکری انقلاب عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رضي الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ، فَلَمَّا بَلَغَ هَذِهِ الْآيَةَ: أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ. أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بَلْ لَا يُوقِنُونَ. أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُسَيْطِرُونَ (52:35-37) كَادَ قَلْبِي أَنْ يَطِيرَ (صحيح البخاری، حدیث نمبر 4854)۔ محمد بن جبیر بن مطعم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ وہ نمازِ مغرب میں سورہ طور پڑھ رہے تھے۔ جب آپ اس آیت تک پہنچے کہ ” کیا وہ خالق کے بغیر پیدا ہو گئے ہیں یا وہ خود ہی خالق ہیں۔ کیا انہوں نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے۔ بلکہ وہ یقین نہیں رکھتے۔ کیا ان کے پاس خدا کی رحمت کے خزانے ہیں یا وہی اس پر دارو غہ ہیں “ جب میں نے اس کو سنا تو قریب تھا کہ میرا دل اڑ جائے۔ حضرت جبیر بن مطعم بدر کی جنگ تک اسلام نہیں لائے تھے۔ وہ بدر کے واقعہ کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page