دینِ انسانیت
Urdu book, p. 231
By Maulana Wahiduddin Khan
بعد اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے لیے مکہ سے مدینہ آئے۔ اس وقت وہ مشرک تھے۔ مدینہ کے زمانہ قیام میں ان پر یہ تجربہ گزرا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز کی امامت کر رہے تھے۔ آپ نے نماز میں سورہ طور پڑھی۔ جبیر بن مطعم کے کان میں آواز آئی تو وہ اس کو سننے لگے۔ جب آپ اس کو پڑھتے ہوئے مذکورہ آیتوں تک پہنچے تو اس نے ان کے شعور کو اس طرح جھنجھوڑا کہ ان کے اندر ایک ہلچل پیدا ہو گئی ۔ ان کا دل ان کے سینہ میں اڑنے لگا۔ جبیر بن مطعم اس وقت مشرک تھے۔ مگر اب ان کا ذہن توحید کی طرف مڑ گیا۔ وہ اپنا محاسبہ کرنے لگے اور شرک و توحید کے فرق پر غور کرتے رہے۔ یہاں تک کہ حق ان پر واضح ہو گیا۔ انہوں نے شرک کو چھوڑ کر توحید کو اپنا دین بنا لیا۔ اصحاب رسول سب اسی قسم کے لوگ تھے۔ وہ شعوری انقلاب کے ذریعہ اسلام میں آئے تھے۔ بعد کو ایسے لوگ اسلام کے حامل بنے جن کو پیدائشی اتفاق نے مسلمان بنا دیا تھا۔ اور ظاہر ہے کہ پیدائشی اتفاق وہ کردار پیدا نہیں کر سکتا جو فکری انقلاب کے ذریعہ پیدا ہوتا ہے۔ کھجور کی چپل پہننے والے موجودہ افغانستان قدیم زمانہ میں سجستان کہا جاتا تھا۔ اس کا دارالسلطنت کابل تھا۔ یہاں ایک ترک راجہ کی حکومت تھی۔ وہ بدھ مذہب کو مانتا تھا اور اس کا خاندانی لقب زنبیل (ز ندپیل) تھا۔ یہ علاقہ امیر معاویہ کے زمانہ میں اسلامی خلافت میں شامل ہوا۔ زنبیل نے ابتداء اسلامی فوجوں سے مقابلہ کیا۔ اس کے بعد اس نے دس لاکھ درہم سالانہ خراج پر معاہدہ کرے اپنے لیے امان حاصل کر لی۔ زنبیل ایک مدت تک خراج دیتا رہا۔ اس کے بعد اس نے خراج دینا بند کر دیا۔ اس کے علاقہ پر بار بار فوجیں بھیجی گئیں مگر وہ مطیع نہ ہوا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader