کھجور کی چپل پہننے والے
Urdu book, p. 232
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سلسلہ میں تاریخوں میں جو واقعات آتے ہیں ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ یزید بن عبدالملک اموی (م 105 ھ) کے زمانہ میں جب خلافت دمشق کے کچھ نمائندے اس کے پاس خراج طلب کرنے کے لیے پہنچے تو اس نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’وہ لوگ کہاں گئے جو پہلے آیا کرتے تھے۔ ان کے پیٹ فاقہ کشوں کی طرح دبے ہوئے تھے۔ پیشانیوں پر سیاہ نشان پڑے رہتے تھے اور وہ کھجوروں کی چپلیں پہنا کرتے تھے‘‘ راوی کا بیان ہے کہ یہ کہہ کر رتبیل نے خراج دینے سے انکار کر دیا اور تقریباً چوتھائی صدی تک وہ اسلامی حکومت سے آزاد رہا۔ صحابہ کے زمانہ کے سیدھے سادھے معمولی لوگ رتبیل کی نظر میں اس سے زیادہ طاقتور تھے جتنا کہ بنوامیہ کے زمانہ میں شان و شوکت والے لوگ۔ اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کسی آدمی کی طاقت کا راز اس کے جسم پر دکھائی دینے والی ظاہری رونقیں نہیں بلکہ اس کی اندرونی صلاحیت ہے۔ یہ اندرونی صلاحیت پہلے کے لوگوں میں بہت زیادہ تھی اگرچہ ظاہری طور پر وہ معمولی حالت میں دکھائی دیتے تھے۔ طاقت وہ ہے جس کی ضروریات مختصر ہوں۔ جس کی آرزوئیں محدود ہوں ۔ جولد لذت اور جاہ کا طالب نہ ہو۔ جس کی تواضع میں تسکین ملتی ہو نہ کہ اپنے کو بڑا بنانے میں۔ ایسا آدمی نفسیاتی پیچیدگیوں سے خالی ہوتا ہے۔ اس کے لیے صحیح فیصلہ کرنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی۔ مصلحتوں کا خیال کبھی اس کا قدم نہیں روکتا۔ اپنے مقصد کی خاطر قربانی کی حد تک جانے میں اس کے لیے کوئی چیز حائل نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس، جو لوگ مصنوعی چیزوں میں گھیرے ہوئے ہوں وہ زندگی کی حقیقی معرفت سے محروم رہتے ہیں۔ غیر ضروری تکلفات ان کے لیے ایسا بندھن بن جاتے ہیں کہ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader