دینِ انسانیت
Urdu book, p. 233
By Maulana Wahiduddin Khan
نہ تو کسی بات کو صحیح رنگ میں دیکھ پاتے اور نہ اس میں اپنے آپ کو واقعی طور پر شامل کر سکتے۔ وہ ذات کے لیے زیادہ اور مقصد کے لیے کم ہو کر رہ جاتے ہیں۔ عزت کیسے ملتی ہے 16ھ میں مسلمان فوجیں حضرت ابو عبیدہ رض کی قیادت میں شام کو فتح کرتے ہوئے فلسطین تک پہنچ گئیں۔ عیسائی بیت المقدس میں قلعہ بند ہو گئے اور مسلم فوجوں نے اس کو اپنے محاصرہ میں لے لیا۔ اس وقت عیسائیوں کی طرف سے صلح کی پیش کش ہوئی جس میں ایک خاص شرط یہ تھی کہ خلیفہ (عمر فاروق رض) خود آ کر عہد نامہ کی تکمیل کریں۔ حضرت ابو عبیدہ نے عیسائیوں کی اس پیش کش سے خلیفہ دوم کو مطلع کیا۔ آپ نے اصحاب سے مشورہ کیا اور بالآخر مدینہ سے نکل کر فلسطین کے لیے روانہ ہوئے۔ حضرت عمر فاروق کے ساتھ ایک اونٹ تھا اور ایک خادم۔ جب آپ مدینہ کے باہر پہنچے تو آپ نے خادم سے کہا۔ ہم دو ہیں اور سواری ایک ہے۔ اگر میں سواری پر بیٹھوں اور تم پیدل چلو تو میں تمہارے اوپر ظلم کروں گا۔ اور اگر تم سواری پر بیٹھو اور میں پیدل چلوں تو تم میرے اوپر ظلم کرو گے۔ اگر ہم دونوں اکٹھے سوار ہو جائیں تو ہم جانور کی پیٹھ توڑ ڈالیں گے۔ اس لیے ہم کو چاہیے کہ ہم راستہ کی تین باریاں مقرر کر لیں۔ چنانچہ سارا سفر اس طرح طے ہوا کہ ایک بار عمر فاروق بیٹھتے اور خادم اونٹ کی نکیل پکڑ کر چلتا۔ پھر خادم بیٹھتا اور عمر فاروق اونٹ کی نکیل پکڑ کر چلتے۔ اس کے بعد کچھ دور تک اونٹ خالی چلتا اور دونوں اس کے ساتھ پیدل چل رہے ہوتے۔ اس طرح سارا سفر طے ہوتا رہا۔ حاکم نے روایت کیا ہے کہ اس سفر کے دوران یہ واقعہ پیش آیا کہ جب آپ اسلامی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader