دینِ انسانیت
Urdu book, p. 234
By Maulana Wahiduddin Khan
لشکر سے ملتے تو ان لوگوں نے دیکھا کہ آپ ایک تہ بند باندھے ہوئے ہیں اور کسی قسم کا کوئی سامان آپ کے پاس نہیں ہے۔ حضرت ابو عبیدہ (فوج کے افسر اعلیٰ) نے کہا کہ اے امیر المومنین آپ کو عیسائیوں کے فوجی افسروں اور ان کے مذہبی عہدیداروں سے ملنا ہے اور آپ اس حال میں ہیں۔ عمر فاروق نے کہا: اے ابو عبیدہ، کاش یہ بات تمہارے سوا کوئی اور کہتا۔ ہم دنیا میں سب سے پست قوم تھے پھر اللہ نے اسلام کے ذریعہ ہم کو عزت دی۔ جب بھی ہم اس کے سوا کسی اور چیز کے ذریعہ عزت چاہیں گے تو اللہ ہم کو ذلیل کر دے گا: اِنَّا كُنَّا أَذَلَّ قَوْمٍ، فَأَعَزَّنَا اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ، فَمَهْمَا نَطْلُبِ العِزَّ بِغَيْرِ مَا أَعَزَّنَا اللَّهُ بِهِ، أَذَلَّنَا اللَّهُ (مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 207)۔ عزت اور ذلت کو اللہ کی طرف سے سمجھنا ایک ایسا عقیدہ ہے جو آدمی کو بغیر کسی ہتھیار کے ہتھیار والا بنا دیتا ہے۔ یہ عقیدہ آدمی کو ایک ایسی خود اعتمادی سکھاتا ہے جو کسی خارجی سہارے کے بغیر اپنی اندرونی طاقت کے اوپر قائم ہوتی ہے اس کا خزانہ آدمی کے اندر ہوتا ہے نہ کہ اس کے باہر اور جس طاقت کی بنیاد اندرونی جذبہ پر ہو اس کو کوئی چھینے والا کبھی چھین نہیں سکتا۔ ایک دعا عمر و بن بحر بن محبوب الکنانی (255-163ھ) بصرہ میں پیدا ہوئے اور وہیں انتقال کیا۔ وہ عام طور پر الجاحظ کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کا شمار عربی ادب کے ائمہ میں ہوتا ہے۔ مطالعہ کے اتنے زیادہ حریص تھے کہ آخر عمر میں جب مفلوج ہو کر مرے تو ان کے سینہ پر کتاب رکھی ہوئی تھی۔ ان کی ایک کتاب "البیان والتبیین" ہے۔ اس کتاب کے مقدمہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader