ایک دعا
Urdu book, p. 235
By Maulana Wahiduddin Khan
میں انہوں نے یہ دعا لکھی ہے: اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْقَوْلِ، كَمَا نَعُوْذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْعَمَلِ، وَنَعُوْذُ بِكَ مِنَ التَّكَلُّفِ لِمَا لَا نُحْسِنُ، كَمَا نَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْعُجْبِ بِمَا نُحْسِنُ، وَنَعُوْذُ بِكَ مِنَ السَّلَاطَةِ وَالْهَذَرِ، كَمَا نَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْعِيِّ وَالْحَصَرِ (الب بیان والتَّببيين، جلد 1، صفحہ 27)۔ اے اللہ، ہم تجھ سے قول کے فتنے سے اسی طرح پناہ مانگتے ہیں جس طرح ہم تجھ سے عمل کے فتنے سے پناہ مانگتے ہیں۔ اور ہم تجھ سے اس کام کا بار اٹھانے سے پناہ مانگتے ہیں جس کو ہم بخوبی نہیں کر سکتے اور اسی طرح اس کام پر گھمنڈ سے پناہ مانگتے ہیں جس کو ہم بخوبی کر سکتے ہیں۔ اور ہم تجھ سے زباں درازی اور لغویات سے پناہ مانگتے ہیں جس طرح ہم تجھ سے کلام پر قادر نہ ہونے اور گفتگو میں عاجز ہو جانے سے پناہ مانگتے ہیں۔ یہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ یہاں ہر چیز کے ساتھ کوئی نہ کوئی آزمائش کا پہلو لگا ہوا ہے۔ اس لیے وہ شخص جو خدا کی پکڑ سے ڈرتا ہو، اس کو ہر معاملہ میں خدا سے پناہ مانگنا چاہیے اور ہر معاملہ میں خدا کی مدد کا طالب ہونا چاہیے۔ اس دنیا کا اصل امتحان یہ نہیں ہے کہ آدمی نے کیا پایا اور کیا کھویا۔ یہاں اصل امتحان یہ ہے کہ کھونے یا پانے کے موقع پر اس نے کیا ردعمل (response) پیش کیا۔ اس کو قول کے معاملہ میں بھی اتنا ہی محتاط ہونا چاہیے جتنا کوئی شخص عمل کے معاملہ میں محتاط ہوتا ہے۔ اس کو اپنے کیے کو بھی اسی خانہ میں ڈالنا چاہیے جس خانہ میں وہ اپنے نہ کیے کو ڈالتا ہے۔ اس کو قدرت کے موقع پر اسی طرح عبدیت کا ثبوت دینا چاہیے جس طرح عجز کے موقع پر عبدیت کا ثبوت دیا جاتا ہے۔ اس دنیا میں کامیابی بھی آزمائش ہے اور ناکامی بھی آزمائش۔ یہاں عمل بھی جانچ کا لمحہ ہے اور بے عملی بھی جانچ کا لمحہ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader