Urdu book · دینِ انسانیت

خاموش تدبیر

Urdu book, p. 236

By Maulana Wahiduddin Khan

خاموش تدبیر الطاف حسین حالی (1937-1914) اصلاحی شاعری کو پسند کرتے تھے۔ اس اعتبار سے انہوں نے قدیم اردو شاعری کا جائزہ لیا تو وہ انہیں نہایت بے معنی نظر آئی۔ انہوں نے پایا کہ قدیم اردو شاعری میں مبالغہ ہے۔ حسن و عاشقی کی داستان ہے۔ فرضی خیال آرائی ہے۔ حالی نے اس شاعری پر سخت تنقید کی اور اس کے بجائے با مقصد شاعری کی وکالت کی۔ یہ تنقید ان لوگوں کو بہت ناگوار ہوئی جو قدیم اردو شاعری کو اپنے لیے فخر کا سرمایہ بنائے ہوئے تھے۔ ان کو برداشت نہیں ہوا کہ ایک شخص ان کے پر فخر اثاثہ کو بے قیمت بتائے۔ چنانچہ وہ حالی کے دشمن ہو گئے۔ ان لوگوں نے حالی کے خلاف نہایت غیر سنجیدہ قسم کے مخالفانہ مضامین چھاپنے شروع کیے ۔ حالی نے اس لغو طوفان کے جواب میں خاموشی اختیار کر لی۔ اس پر اودھ پنچ (لکھنؤ) نے ایک فاتحانہ نظم شائع کی۔ اس کا ایک شعر یہ تھا: ابتر ہمارے حملوں سے حالی کا حال ہے میدان پانی پت کی طرح پائمال ہے مخالفت برائے مخالفت کا یہ طوفان مکمل طور پر یک طرفہ تھا۔ اس لیے وہ بہت زیادہ دیر تک جاری نہیں رہ سکتا تھا۔ چنانچہ کچھ دنوں کے بعد مخالفین خاموش ہو گئے۔ حالی سے کسی نے پوچھا کہ آپ کے مخالفین کیسے چپ ہو گئے۔ وہ تو بظاہر چپ ہونے والے نظر نہیں آتے تھے۔ حالی نے اس کے جواب میں ایک نظم لکھی۔ اس کا ایک شعر یہ تھا: کیا پوچھتے ہو کیونکر سب نکتہ چیں ہوئے چپ سب کچھ کہا انہوں نے پر ہم نے دم نہ مارا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page