دینِ انسانیت
Urdu book, p. 237
By Maulana Wahiduddin Khan
کوئی شخص سنجیدہ اختلاف اور علمی تنقید کرے تو وہ بلاشبہ قابل غور ہوتی ہے۔ اگر وہ درست ہے تو اس کو مان لینا چاہیے اور اگر اس کے اندر استدلالی نقص ہے تو دلائل کے ساتھ اس کی غلطی کا تجزیہ کرنا چاہیے۔ مگر مخالفت برائے مخالفت ہو، جو علمیت اور سنجیدگی سے خالی ہو، جس کی بنیاد حقائق کے بجائے الزام تراشی اور عیب جوئی پر ہو، ایسی مخالفت کا بہترین جواب خاموشی ہے۔ ایسے لوگوں کا جواب دینا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص چیختے ہوئے گدھے کے سامنے اَعْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ (31:19) کا وعظ کہنے لگے، یعنی اپنی آواز کو پست رکھو۔ زبان کی طاقت المتنبی (303-345 ھ) مشہور عرب شاعر ہے۔ وہ کوفہ میں پیدا ہوا۔ اور بغداد میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کا ایک شعر ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ تمہارے پاس اگر گھوڑا اور مال نہیں ہے جس کو تم اپنے محبوب کو ہدیہ کر سکو، تو تمہیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ تمہارا حال اگر تمہارا ساتھ نہیں دیتا تو تمہاری گویائی تمہارا ساتھ دے گی: لَا خَيْلَ عِنْدَكَ تُهْدِيهَا وَلَا مَالٌ، فَلْيُسْعِدِ النُّطْقُ إِنْ لَمْ تُسْعِدِ الْحَالُ گویائی (نطق) اللہ تعالی کی بڑی عجیب نعمت ہے۔ یہ انسان کے پاس ایک ایسی طاقت ہے جو ہر دوسری طاقت پر بھاری ثابت ہوتی ہے، بشرطیکہ اس کو صحیح طور پر استعمال کیا جائے ۔ یہ دولت سے زیادہ قیمتی ہے اور ہتھیار سے زیادہ موثر۔ اس کے ذریعہ مفتوح اپنے فاتح کو جھکا سکتا ہے اور مغلوب اپنے غالب کو زیر کر لیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader