Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 238

By Maulana Wahiduddin Khan

حافظ حامد حسن علوی (1959-1872) نہایت ذہین آدمی تھے۔ گفتگو میں کوئی شخص ان کے مقابلہ میں ٹک نہیں سکتا تھا۔ اسی کے ساتھ وہ پرجلال شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے بتایا کہ زندگی میں صرف ایک بار ایسا ہوا ہے کہ میں کسی شخص کے مقابلہ میں لاجواب ہوگیا۔ اس کا ایک فقرہ میری ساری ذہانت پر بھاری ثابت ہوگیا اور میرے لیے چپ ہو جانے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ حافظ حامد حسن علوی کچھ معزز لوگوں سے گفتگو میں مصروف تھے۔ اتنے میں ایک فقیر عورت آگئی۔ اس نے کہا” بابا کچھ دیدے۔“ وہ لوگ متوجہ نہیں ہوئے تو عورت نے اپنے سوال کو کئی بار دہرایا۔ حافظ صاحب مرحوم کو عورت کا بار بار سوال کرنا گفتگو میں بے جا مداخلت محسوس ہوا۔ انہوں نے کسی قدر خفگی کے ساتھ کہا: بہت بیوقوف ہے۔ اس کے بعد عورت نے کہا: ”ہاں بابا، غریب بیوقوف ہی ہوتا ہے“۔ یہ کہہ کر عورت چلی گئی۔ حافظ صاحب مرحوم اس کے جملہ کی تاب نہ لا کر خاموش ہوگئے۔ اس کے بعد وہ اس مجلس میں کچھ بول نہ سکے۔ بعد کو انہوں نے کہا: اب تک کوئی شخص مجھے لاجواب نہ کرسکا، اس غریب عورت نے مجھے لاجواب کردیا۔ آپ کے پاس اگر کچھ نہ ہو، تب بھی آپ کے پاس ایک چیز ہے۔ اور وہ خدا کی دی ہوئی قوتِ گویائی ہے، اپنی گویائی کو استعمال کیجیے۔ اس بے کچھ سے آپ اپنے لیے سب کچھ پاسکتے ہیں۔ حاضر جوابی مولانا سعید احمد خان سلطان پوری، جمعیۃ علما ہند کے آرگنائزر تھے۔ لوگ انہیں ازراہِ محبت ”دادا“ کہا کرتے تھے۔ 20 جنوری 1989ء کو اپنے وطن سلطان پور میں ان کا انتقال ہوگیا۔ بوقت انتقال ان کی عمر تقریباً 70 سال تھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page