حاضر جوابی
Urdu book, p. 239
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ نہایت حاضر جواب آدمی تھے۔ ایک بار کا قصہ ہے۔ وہ مسجد عبد النبی (نئی دہلی) میں ایک مجلس کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک خوش پوش، بلند قامت آدمی آ کر سامنے کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے تیز وتند لہجہ میں کہا کہ آپ کے دفتر کے کارکن نہایت بد تمیز ہیں۔ وہ ہم جیسے لوگوں کا احترام نہیں کرتے۔ اس کے بعد جو گفتگو ہوئی وہ حسب ذیل تھی: مولا نا سعید احمد : آپ کون صاحب ہیں۔ نو وارد : مجھ کو آپ نہیں جانتے، میں پنجاب کا رہنے والا ہوں۔ مولا نا سعید احمد : جی ہاں، نہیں جانتا۔ اسی لیے تو پوچھ رہا ہوں۔ نو وارد : میں اس زمانہ کا نبی ہوں، اور۔۔۔ مولانا سعید احمد : اگر تم نبی ہو تو میں تمہیں خدا ہوں حکم دیتا ہوں کہ تم فوراً یہاں سے نکل جاؤ۔ اپنے موقع کے لحاظ سے یہ بلاشبہ بہترین جواب تھا۔ بعض مواقع پر علمی اور منطقی جواب زیادہ کارآمد ہوتا ہے۔ مگر بعض مواقع ایسے ہیں جہاں جواب کا وہ انداز زیادہ کارآمد ہے جس کی ایک مثال مذکورہ گفتگو میں نظر آتی ہے۔ اسی کو عام زبان میں حاضر جوابی کہتے ہیں۔ حاضر جوابی ایک اعلیٰ انسانی صلاحیت ہے۔ تاہم استعمال کے اعتبار سے اس کی دو الگ الگ قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس خداداد صلاحیت کو باطل کے توڑ کے لیے استعمال کیا جائے جس کی ایک مثال اوپر کا واقعہ ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی اس صلاحیت کو لوگوں کا مذاق اڑانے کے لیے استعمال کرے۔ اس کا پہلا استعمال بلاشبہ مطلوب ہے، اور اس کا دوسرا استعمال بلاشبہ غیر مطلوب ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader