Urdu book · دینِ انسانیت

اعلیٰ کردار کی ایک مثال

Urdu book, p. 240

By Maulana Wahiduddin Khan

اعلیٰ کردار کی ایک مثال مشرقی بنگال مسلم دورِ حکومت میں دہلی کی مرکزی سلطنت کے ماتحت تھا۔ درمیان میں کئی بار ایسا ہوا کہ وہاں کا گورنر مرکز سے باغی ہو کر خود بادشاہ بن بیٹھا۔ انہیں میں سے ایک سلطان غیاث الدین (حکومت: 1411-1390) ہے جس نے دہلی کی مرکزی سلطنت سے بغاوت کر کے مشرقی بنگال میں خود مختار حکومت قائم کر لی تھی۔ اس زمانہ میں ڈھا کہ شہر وجود میں نہ آیا تھا اور حکومت کا مستقر سونارگاؤں تھا۔ اس مسلمان بادشاہ کا ایک واقعہ ایک انگریز مورخ ایف بی بریڈلے برٹ (Bradley Birt) نے نقل کیا ہے۔ اس کی کتاب کے دوسرے ایڈیشن DACCA: The Romance of an Eastern Capital مطبوعہ لندن 1914 میں یہ واقعہ اس طرح درج ہے: ”ایک دن شاہ غیاث الدین تیر اندازی کی مشق کر رہا تھا۔ اتفاق سے اس کے تیر سے ایک بیوہ عورت کا اکلوتا لڑ کا زخمی ہو گیا۔ بیوہ عورت کو معلوم نہ تھا کہ یہ تیر بادشاہ نے چلایا ہے۔ وہ قاضی شرع کے پاس فریاد لے کر گئی۔ قاضی نے اپنی فراست سے اندازہ لگایا کہ یہ تیر بادشاہ کا ہی چلایا ہوا تھا۔ وہ دیر تک مذبذب رہا کہ بادشاہ کے خوف اور خوفِ خدا میں سے کس کو ترجیح دوں ۔ بالآخر خدا کا خوف قاضی صاحب پر غالب آیا اور انہوں نے بادشاہ کو جواب دہی کے لیے اپنی عدالت میں طلب کیا۔ بادشاہ کو جونہی بلاوا پہنچا وہ بلاکسی تامل کے قاضی کی عدالت کی طرف روانہ ہوا۔ لیکن اس نے اپنے کپڑوں میں ایک چھوٹی سی تلوار بھی چھپالی۔ قاضی صاحب نے عدالت میں بادشاہ کا کسی قسم کا احترام نہیں کیا۔ اور معاملہ کی جانچ کے بعد حکم دیا کہ وہ اس بیوہ عورت کو معقول مالی معاویہ دے کر اس سے اپنا قصور معاف کرائے۔ بادشاہ نے بے چون و چرا اس حکم کی تعمیل کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page