Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 241

By Maulana Wahiduddin Khan

اور بیوہ عورت کو ایک بڑی رقم پیش کر کے اس سے اپنا قصور معاف کرایا۔ مقدمہ ختم ہونے کے بعد قاضی صاحب اپنی کرسی عدالت سے اٹھ کر بادشاہ کے قدموں پر گر پڑے۔ بادشاہ نے فوراً انہیں اٹھایا اور وہ تلوار ان کو دکھائی جو وہ اپنے کپڑوں میں چھپائے ہوئے تھا اور کہا کہ یہ تلوار میں اس لیے لایا تھا کہ اگر تم میرے اس مقدمہ میں شریعت کے حکم سے ذرا بھی روگردانی کرو گے تو میں تمہارا سر اڑا دوں گا۔ لیکن تم نے شرع کے مطابق فیصلہ صادر کرنے میں میرا کوئی خوف نہیں کیا اس کے لیے تم انتہائی اعزاز کے مستحق ہو (صفحہ 55-56)۔ شریعت کی پابندی کی یہ مثال قائم کرنے والے بادشاہ کا مقبرہ اس کتاب کی اشاعت کے وقت تک سونارگاؤں میں موجود تھا (صدق جدید 2 مئی 1980ء)۔ کسی قوم کی ترقی کا راز یہ ہے کہ اس کے اندر اس قسم کے زندہ افراد موجود ہوں۔ زندہ افراد کی موجودگی سے قوم زندہ ہوتی ہے اور زندہ افراد نہ ہونے سے قوم مر جاتی ہے۔ زندہ آدمی وہ ہے جو مصلحت کے مقابلہ میں اصول کو اہمیت دیتا ہو۔ جو اپنی غلطی پر عذرات اور توجیہات کا پردہ ڈالنے کے بجائے اس کو مان لیتا ہو، جو ذاتی شکایت کو نظر انداز کر دے، نہ کہ اس کی بنا پر کسی کو اپنا دشمن سمجھے۔ جو اس وقت بھی ایک انسان کی قدر کر سکے جب کہ اس نے اس کے خلاف کارروائی کی ہو۔ حوصلہ مندی اصمعی دوسری صدی ہجری کا مشہور لغوی عالم ہے۔ اس کو عربی الفاظ کا لغت جمع کرتے ہوئے ”دَمْدَمَ“ کے معنی کی تلاش ہوئی۔ یہ لفظ قرآن میں بھی استعمال ہوا ہے: فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنبِهِمْ فَسَوَّاهَا (91:14)۔ یعنی، پھر ان کے رب نے ان کے گناہ کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page