حوصلہ مندی
Urdu book, p. 242
By Maulana Wahiduddin Khan
سبب ان پر ہلاکت نازل کی، پھر سب کو برابر کر دیا۔ اصمعی یہ جاننا چاہتا تھا کہ اس لفظ کا خاص مفہوم کیا ہے اور عرب اس کو کس موقع پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ ایسا کر سکتا تھا کہ کسی بدو کو پکڑتا اور اس سے پوچھتا کہ تم لوگ دَمْدَم کا لفظ کس موقع پر بولتے ہو۔ مگر وہ جو کچھ بتاتا وہ اصمعی کو خود بھی معلوم تھا۔ اصمعی کو تو اصل میں یہ جاننا تھا کہ وہ کون سا موقع ہے جب کہ ایک عرب بے ساختہ طور پر یہ لفظ بول پڑتا ہے۔ اور یہ بات پوچھ کر جانی نہیں جا سکتی۔ وہ تو صرف اس طرح جانی جا سکتی ہے کہ فطری حالات میں ایسا کوئی لمحہ آئے جب کہ ایک عرب یہ لفظ بولے اور وہاں وہ سننے کے لیے موجود ہو۔ اس مقصد کے لیے اصمعی ایک خانہ بدوش عرب خاندان کے ساتھ لگ گیا۔ وہ خاندان جہاں جاتا اصمعی بھی اس کے ساتھ ہوتا اور ہر وقت اس انتظار میں رہتا کہ کب وہ موقع آئے جب کہ عرب بدو بے ساختہ طور پر یہ لفظ بول پڑے۔ وہ یہاں وہاں پھرتا رہا۔ یہاں تک کہ اسی میں تقریباً چھ ماہ گزر گئے اور بدو کی زبان سے دَمْدَم کا لفظ اس کو سننے کو نہ ملا۔ آخر ایک روز ایسا ہوا کہ بدو نے ایک مقام پر اپنا خیمہ گاڑ رکھا تھا۔ خیمہ کے اندر سالن کی ہانڈی آگ پر چڑھی ہوئی تھی، بدو مرد خیمہ کے اندر تھا اور اس کی عورت خیمہ کے باہر کوئی کام کر رہی تھی۔ پکتے پکتے ہانڈی نقطہ جوش پر آئی اور اس میں ابال آگیا۔ عرب بدو نے یہ دیکھ کر اپنی بیوی کو خبردار کرنے کے لیے با آواز بلند کہا: دَمْدَمَتْ (ہانڈی ابل گئی)۔ اصمعی نے یہ سنا تو چلاتے ہوئے خیمہ سے نکل پڑا: واللہ وجدتُ واللہِ وجدتُ۔ یعنی، خدا کی قسم میں پا گیا، خدا کی قسم میں پاگیا۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کون سا شوق اور حوصلہ مندی تھی جس کی وجہ سے دور اول کے مسلمانوں نے بڑے بڑے کارنامے انجام دیے ۔ یہ تھا فائدہ اور شہرت کی چاشنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader