Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 243

By Maulana Wahiduddin Khan

کے بغیر صرف مقصد کی خاطر محنتیں کرنا۔ موجودہ زمانہ میں بھی بے شمار سرگرمیاں جاری ہیں، مگر وہ سب بے نتیجہ ہوتی جارہی ہیں۔ کیونکہ آج کا آدمی صرف وہاں سرگرم ہوتا ہے جہاں ذاتی فائدہ یا ذاتی شہرت ومقبولیت کی چاشنی ہو۔ صرف مقصد کی خاطر متحرک ہونا کوئی نہیں جانتا۔ جس قوم کے افراد میں اس قسم کا شوق اور حوصلہ ہو وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں۔ ابتدائی دور میں مسلمانوں کے اندر یہی بلند حوصلگی تھی جس کی وجہ سے مسلمان اس زمانہ میں دنیا کے سب سے طاقت ور گروہ بن گئے۔ موجودہ زمانہ میں سطحیّت اور خود پسندی اتنی بڑھ گئی ہے کہ کوئی اس قسم کی ”بے فائدہ“ محنت میں اپنا وقت ضائع کرنا پسند نہیں کرتا۔ اور بلاشبہ یہی اخلاقی زوال موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی پستی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ عام انسان کو یا خوف متحرک کرتا ہے یا خود غرضی۔ مگر ایسے لوگ کوئی تاریخ نہیں بناتے۔ تاریخ صرف وہ لوگ بناتے ہیں جو حوصلہ اور مقصد کی خاطر متحرک ہونا جانتے ہوں۔ کامیاب مقابلہ مولانا ثناء اللہ امرتسری (1948-1868ء) اپنے وقت کے مشہور مناظر تھے۔ ایک بار دہلی میں ان کا مناظرہ آریہ سماج کے ایک ہندو عالم سے ہوا۔ اس زمانہ میں مولانا ثناء اللہ کے ایک مخالف نے ان کے بارے میں ایک اشتہار شائع کیا تھا۔ اس اشتہار میں مولانا ثناء اللہ کی طرف کچھ ایسی باتیں منسوب کی گئی تھیں جس سے ان کا اسلام ہی مشکوک قرار پا رہا تھا۔ یہ اشتہار آریہ سماجی مناظر کو مل گیا۔ وہ عربی اور فارسی زبانیں جانتا تھا اور عقیدہ اور عمل کے بارے میں علما اسلام کے اختلافی مسائل سے بخوبی آگاہ تھا۔ اس نے مذکورہ اشتہار کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ دونوں فریق جب مناظرہ کے اسٹیج پر آئے تو آریہ سماجی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page