کامیاب مقابلہ
Urdu book, p. 244
By Maulana Wahiduddin Khan
مناظر نے پہلا کام یہ کیا کہ وہ اپنی جگہ سے اٹھا۔ اس کے ہاتھ میں مذکورہ اشتہار تھا۔ اس اشتہار کو اس نے مجمع کے سامنے لہراتے ہوئے کہا: حضرت، میں تو یہاں کسی مسلمان عالم دین سے مناظرہ کرنے کے لیے آیا ہوں۔ مگر مولانا ثناء اللہ امرتسری اس صف میں شامل نہیں۔ مولانا صاحب ایک انسان کی حیثیت سے میرے لیے قابل احترام ہیں۔ لیکن اس اشتہار کو دیکھیے۔ اس کے مطابق خود اسلامی جماعت کے لوگ ان کے اسلام کو تسلیم نہیں کرتے۔ پھر میں کیسے انہیں مسلمان سمجھوں اور اسلام کے بارے میں ان سے مناظرہ کروں۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری نے اس پر کسی منفی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ وہ اطمینان کے ساتھ مسکراتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھے اور کہا۔ حضرات، میرے دوست نے ٹھیک کہا۔ مگر آپ سب جانتے ہیں کہ اسلام میں داخل ہونے کے لیے کلمہ شہادت پڑھنا کافی ہے۔ کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوا جاتا ہے۔ میں آپ تمام حاضرین کو گواہ بنا کر آپ کے سامنے کلمہ شہادت پڑھتا ہوں اور اسلام قبول کرتا ہوں۔ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ۔ اب تو میرے اسلام میں کوئی شک نہیں رہا۔ آئیے، اب مناظرہ کیجیے۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری اگر اشتہار کے مضمون پر کلام کرتے اور اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنے لگتے تو بات کبھی ختم نہ ہوتی۔ وہ عقیدہ و عمل کی پیچیدہ بحثوں میں الجھ کر رہ جاتے ۔ ہندو مناظر اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا۔ مگر مذکورہ انداز اختیار کر کے انہوں نے ایک منٹ میں سارا مسئلہ ختم کر دیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader