ثبت اثر
Urdu book, p. 245
By Maulana Wahiduddin Khan
مثبت اثر مشہور نحوی سیبویہ (م 177 ھ) ایران میں پیدا ہوا اور بصرہ میں پرورش پائی۔ اس کی جوانی کا واقعہ ہے جب کہ وہ حدیث وفقہ کا طالب علم تھا۔ ایک دن وہ حماد بن سلمہ (وفات 168 ھ) کی مجلس میں تھا۔ انہوں نے ایک حدیث کا املا کراتے ہوئے کہا: لیس من اصحابی احد الالوشئت لاتخذت علیہ، لیس ابوالدرداء!سیبویہ یہ سن کر بول اٹھا: لیس ابوالدرداء۔ اس پر حماد نے چلا کر کہا: سیبویہ تم غلطی پر ہو۔ یہ استثناء ہے (اس لیے ”ابو“ کے بجائے ”ابا“ ہے) سیبویہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس نے اپنے جی میں کہا کہ میری نحو کمزور ہے اور مجھے اس میں مہارت پیدا کرنی چاہیے۔ اب اس نے نحو سیکھنا شروع کر دیا۔ وہ بصرہ وکوفہ کے نحوی علما، یونس بن حبیب (وفات: 183 ھ) اور عیسیٰ بن عمر (وفات : 149 ھ) کی مجلسوں میں جانے لگا (طبقات النحویین واللغویین للزبیدی ،صفحہ 66)۔ اس نے اس فن میں اتنی محنت کی کہ بالآخر وہ اس کا امام بن گیا۔ نحو و ادب کے شاذ مسائل میں اس کا کوئی ثانی نہ رہا۔ اس کے بعد اس نے نحو پر ایک ایسی کتاب لکھی جو اپنی اہمیت اور بلندی کی وجہ سے ”الکتاب“ کے نام سے مشہور ہے۔ اس فن کے علما کا کہنا ہے کہ فن نحو پر اس کے برابر کی کوئی کتاب آج تک لکھی نہ جاسکی۔ جس شخص کی نحو کمزور تھی، وہ تاریخ کا سب سے بڑا نحوی بن گیا۔ ہر شخص کی زندگی میں ایسے واقعات آتے ہیں جب کہ اسے ٹھیس لگتی ہے۔ جب اس کو دوسروں کی طرف سے بے اعترافی کی ذلت اٹھانی پڑتی ہے۔ جب وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان بے جگہ ہو گیا ہے۔ ایسے مواقع پر اثر لینے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی ان تجربات کے بعد بے ہمتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader