Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 246

By Maulana Wahiduddin Khan

اور احساس کمتری میں مبتلا ہو جائے۔ ایسے آدمی نے گویا اپنے آپ اپنے کو مار لیا۔ دوسرا شخص وہ ہے جس کے لیے ایسا تجربہ ایک ممیز بن جائے ۔ ایسے آدمی کے لیے اس کا تجربہ اس کی صلاحیتوں کو جگانے کا باعث بن جاتا ہے۔ وہ از سر نو محنت اور عمل کے رخ پر چل پڑتا ہے، یہاں تک کہ ماضی کا ناکام انسان مستقبل کا کامیاب انسان بن جاتا ہے۔ مثبت تاثر آدمی کو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے اور منفی تاثر ناکامی اور بربادی کی طرف۔ صرف الفاظ سے امام حسن بصری (م 110ھ) اور حجاج بن یوسف (م 95ھ) کا زمانہ ایک ہی تھا۔ حسن بصری کی صاف گوئی حجاج کو بہت تکلیف پہنچاتی تھی۔ اس نے طے کیا کہ حسن بصری کو قتل کرا دے۔ چنانچہ اس نے حسن بصری کو اپنے دربار میں بلایا۔ اس نے طے کر لیا تھا کہ ان کو زندہ واپس نہیں جانے دے گا۔ میمون بن مہران بتاتے ہیں کہ حسن بصری جب دربار میں داخل ہوئے اور حجاج کے سامنے کھڑے ہوئے تو یہ گفتگو ہوئی : حسن بصری نے کہا اے حجاج، تمہارے اور آدم کے درمیان کتنے باپ ہیں۔ حجاج نے جواب دیا کہ بہت ۔ حسن بصری نے کہا کہ اب وہ کہاں ہیں۔ حجاج نے کہا کہ وہ مر گئے۔ حسن بصری کا مطلب یہ تھا کہ جہاں تم مجھ کو پہنچانا چاہتے ہو اسی راستہ پر تم خود بھی تیزی سے جا رہے ہو ۔ حجاج اگر چہ ایک ظالم حکمران تھا۔ مگر یہ الفاظ سن کر اس نے سرجھکالیا۔ اس کے بعد حسن بصری محفوظ حالت میں دربار سے باہر نکل آئے۔ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ فَقَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فقال : يا حَجَّاج، كم بينك وبين آدم من أب؟ قال: كثير، قال: فأين هم؟ قال: مائوا، قال: فنكَّس الحَجَّاجُ رأسَهُ، وخرج الْحَسَنُ (حليۃ الاولیاء للاصفهانی، جلد 4، صفحه 88) ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page