Urdu book · دینِ انسانیت

اس پل پر یا اُس پل پر

Urdu book, p. 247

By Maulana Wahiduddin Khan

اس پل پر یا اس پل پر ملک شاہ سلجوقی کی شاہی (حکومت 1092-1072) سواری ایک روز ایک پل سے گزر رہی تھی۔ ایک بڑھیا وہاں آ کر کھڑی ہو گئی۔ بادشاہ اس کے قریب پہنچا تو بڑھیا نے پکار کر کہا: اے بادشاہ بتا میرا اور تیرا انصاف اس پل پر ہو گا یا اس پل (صراط) پر۔ ملک شاہ پر اس جملہ کا بے حد اثر ہوا۔ وہ گھبرا کر سواری سے اتر پڑا اور کہا: ماں، اُس پل پر کس کی ہمت ہے کہ کھڑا ہو سکے ۔ بہتر ہے کہ میرا اور تمہارا حساب اسی پل پر ہو جائے۔ اس کے بعد بڑھیا نے بتایا کہ سپاہیوں نے اس کی گائے پکڑ کر ذبح کر دی ہے، میں تم سے اس ظلم کا انصاف چاہتی ہوں۔ ملک شاہ سلجوقی وہیں ٹھہر گیا اور معاملہ کی تحقیق شروع کر دی۔ جب ثابت ہو گیا کہ بڑھیا کی شکایت صحیح ہے تو اس نے اسی وقت مجرموں کو سزا دی۔ اس کے بعد اس نے بڑھیا سے معافی مانگی اور گائے کی اصل قیمت سے بہت زیادہ معاوضہ دے کر بڑھیا کو راضی کیا۔ کتے سے بھی زیادہ برا تاتاری جب بغداد کی سلطنت پر غالب آ گئے تو ان کے اندر احساس برتری پیدا ہو گیا۔ وہ اپنے آپ کو مسلمانوں سے بہت اونچا سمجھنے لگے۔ ایک تاتاری شہزادہ ایک بار گھوڑے پر سوار ہو کر شکار کے لیے جا رہا تھا۔ اس کے ساتھ اس کا کتا بھی تھا۔ راستہ میں ایک مسلمان بزرگ ملے ۔ اس نے مسلمان بزرگ کو اپنے پاس بلایا اور کہا: ”تم اچھے ہو یا میرا کتا“ مسلمان بزرگ نے اطمینان کے ساتھ جواب دیا: اگر میرا خاتمہ ایمان پر ہو تو میں اچھا ورنہ تمہارا کتا اچھا“۔ یہ جملہ اس وقت اتنا مؤثر ثابت ہوا کہ تاتاری شہزادہ کا دل ہل گیا۔ وہ اس ”ایمان“ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے لگا جس پر آدمی کا خاتمہ نہ ہو تو وہ کتے سے بدتر ہو جاتا ہے۔ اس تلاش کا نتیجہ یہ ہوا کہ بالآخر وہ مسلمان ہو گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page