Urdu book · دینِ انسانیت

غریبی کا مطلب بے وقوفی نہیں

Urdu book, p. 248

By Maulana Wahiduddin Khan

غربیکی مطلب بے وقوف نہیں کچھ معزز لوگ ایک مقام پر بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے اتنے میں ایک بھکاری عورت آئی۔ اس نے سوال کیا مگر کسی نے اس کو جواب نہ دیا۔ اس نے پھر اپنا سوال دہرایا۔ اب بھی کسی نے اس کو جواب دینے کی ضرورت نہ سمجھی، لوگوں کا خیال تھا کہ وہ اس سے زیادہ ضروری گفتگو میں مصروف ہیں کہ ایک بھکاری عورت کا جواب دیں۔ بھکاری عورت اس کے باوجود بار بار اپنے سوال کو دہراتی رہی۔ مجلس میں ایک معزز بزرگ بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کو اس مسلسل مداخلت پر غصہ آگیا۔ انہوں نے سخت لہجہ میں کہا: ”بڑی بے وقوف معلوم ہوتی ہے“ عورت نے یہ سنا تو بولی: ”بابا غریب آدمی بے وقوف ہی ہوتے ہیں“ یہ کہا اور چلی گئی۔ اس واقعہ کے بعد مذکورہ بزرگ اکثر کہا کرتے تھے: ”اس بھکاری عورت نے مجھ کو جو جواب دیا اس سے زیادہ سخت جواب مجھ کو ساری زندگی میں کسی نے نہیں دیا۔“ غم آدمی کو گہرا بنا دیتا ہے اسی طرح ایک مجلس تھی۔ عمدہ قالین پر کچھ خوش پوش اور معزز افراد بیٹھے ہوئے۔ اتنے میں ایک آدمی پھٹے حال آیا۔ وہ بلا اجازت مجلس میں بیٹھ گیا۔ ایک صاحب نے اس کو منع کیا کہ یہاں مت بیٹھو۔ بار بار منع کرنے کے بعد بھی جب وہ نہ مانا تو انہوں نے اس کو پکڑ کر مجلس سے اٹھا دیا اور کہا ”جا اپنا کام کر“۔ وہ اٹھا اور یہ کہتا ہوا چلا گیا: ”ایک ہی راستہ سے آئے ہیں، ایک ہی راستہ سے جائیں گے دونوں“۔ آدمی کا یہ جملہ اتنا موثر ثابت ہوا کہ اس کے بعد مجلس کا رنگ بدل گیا۔ لوگ خاموش ہو گئے اور تھوڑی دیر بعد اٹھ اٹھ کر چلے گئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page