Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 249

By Maulana Wahiduddin Khan

کبھی آدمی کی زبان سے ایک جملہ نکلتا ہے مگر وہ جملہ محض کچھ الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ سننے والے کے دل میں برچھی کی طرح چھبتا ہے۔ وہ آدمی کو تیر اور تلوار کے بغیر ذبح کر دیتا ہے ۔مگر برچھی کی مانند چھبنے والے جملے صرف انہی لوگوں کی زبان سے نکلتے ہیں، جو اس سے پہلے اپنے سینہ میں برچھی چھپا چکے ہوں۔ تنقید کوسن کر خلیفہ ہارون الرشید (193-170ھ) نے ایک بار اپنے وزیر سے کہا کہ مجھ کو کسی بزرگ کے پاس لے چلو۔ وہ خلیفہ کو الفضیل بن عیاض (187-105ھ) کے پاس لے گیا۔ اس سلسلہ میں لمبا قصہ کتابوں میں نقل ہوا ہے۔ خلیفہ کے ساتھ اس کے کئی درباری تھے۔ انہوں نے فضیل سے مصافحہ کیا۔ خلیفہ نے بھی مصافحہ کیا۔ خلیفہ نے اپنا ہاتھ جب فضیل کے ہاتھ میں رکھا تو انہوں نے کہا کہ کتنا زیادہ نرم ہے یہ ہاتھ، اگر کل کے دن وہ اللہ کے عذاب سے بھی بچ جائے :يَا لَهَا مِنْ كَفٍّ مَا أَلْيَنَهَا إِنْ نَجَوْتَ غَدًا مِنْ عَذَابِ اللهِ ۔ اس کے بعد خلیفہ نے فضیل سے کہا کہ کچھ نصیحت کیجیے۔ انہوں نے تلخ نصیحت کے انداز میں کچھ کلمات کہے۔ خلیفہ نے کہا کہ اور کچھ فرمائیے۔ فضیل نے مزید کچھ کہا۔ اس طرح وہ سخت تنقیدی انداز میں دیر تک خلیفہ کو ڈرانے والی باتیں کرتے رہے۔ خلیفہ ان کی نصیحتوں کوسن کر رو پڑا۔ آخر میں اس نے اپنے وزیر سے کہا کہ جب تم مجھ کو کسی آدمی کے پاس لے جاؤ تو اسی طرح کے آدمی کے پاس لے چلو۔ یہ مسلمانوں کے سردار ہیں: إِذَا دَلَلْتَنِي عَلَى رَجُلٍ فَدُلَّنِي عَلَى مِثْلِ هَذَا، هَذَا سَيِّدُ الْمُسْلِمِينَ ( حلية الأولياء للاصفهاني ، جلد 8، صفحہ 106 )۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page