دینِ انسانیت
Urdu book, p. 250
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی کے اندر اگر صحیح مزاج ہو تو وہ نصیحت کو سن کر اس سے سبق لے گا، خواہ یہ نصیحت کتنے ہی سخت تنقیدی الفاظ میں کی گئی ہو۔ ایسا آدمی نصیحت کو اس کے معنوی اعتبار سے دیکھے گا نہ کہ اس کے لفظی اعتبار سے، وہ اس کو اصولی حیثیت سے لے گا نہ کہ ذاتی حیثیت سے۔ صحیح مزاج اگر بادشاہ کے اندر ہو تو وہ بھی تنقید کو سن کر اسے برداشت کرے گا۔ اور ایک معمولی آدمی بھی اگر صحیح مزاج نہ رکھتا ہو تو وہ تنقید کو سن کر بگڑ جائے گا۔ تنقید کسی آدمی کو پہچانے کی سب سے زیادہ یقینی کسوٹی ہے۔ تنقید کو سن کر جو آدمی اپنے ذہنی توازن کو نہ کھوئے وہی اعلیٰ انسان ہے۔ اور جو شخص تنقید کو سن کر بگڑ جائے، اس کے متعلق یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ اپنے اندر اعلیٰ انسان والی خصوصیات رکھتا ہے۔ تنقید کسی آدمی کی انسانیت اور اس کے تقویٰ کی پہچان کراتی ہے۔ نقطۂ انقلاب عمر بن عبدالعزیز تابعی بنوامیہ کے ایک خلیفہ تھے ۔ ان کے عالم اور زاہد اور خلیفۂ راشد ہونے پر تمام علما کا اتفاق ہے۔ صحابہ کے بعد ان کا مقام امت میں سب سے زیادہ بلند مانا جاتا ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز اپنی ابتدائی زندگی میں ایک خوش باش اور خوش پوش انسان کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ وہ پر تکلف زندگی گزارتے تھے۔ آخر عمر میں وہ بالکل بدل گئے۔ اس تبدیلی کے لیے جو واقعہ نقطہ آغاز ثابت ہوا وہ یہ تھا : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ: مَا كَانَ بَدْءُ إِنَابَتِكَ ؟ قَالَ: أَرَدْتُ ضَرْبَ غُلَامٍ لِي، فَقَالَ لِي: اذْكُرْ لَيْلَةً صَبِيحَتُهَا يَوْمُ الْقِيَامَةِ - (تاریخ دمشق، جلد 45، صفحہ (151)۔ عبداللہ بن کثیر کہتے ہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader