Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 251

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز سے پوچھا کہ آپ کی انابت کا آغاز کیسے ہوا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے ایک غلام کو مارنا چاہا تو اس نے کہا کہ اس رات کو یاد کرو جس کی صبح قیامت کا دن ہے۔ جب آدمی کے اندر زندگی ہو، جب آدمی کے اندر قبول کرنے کی صلاحیت موجود ہو تو ایک جملہ اس کو بدلنے کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جب اس کی روح مردہ ہو جائے، جب اس کی قبول کرنے کی صلاحیت زندہ حالت میں باقی نہ رہے تو ہر دلیل اس کے لیے بے کار ہے۔ اس کے بعد کسی بھی قیمت پر وہ حق کو قبول کرنے والا نہیں، خواہ حق کو کتنا ہی زیادہ دلائل کے ساتھ اس کے سامنے بیان کر دیا گیا ہو۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز اپنے غلام کو مارنا چاہتے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غلام سے ان کو کوئی سخت شکایت پیدا ہو گئی تھی۔ اس کے باوجود غلام کی بات نے ان کو ہلا دیا۔ یہ کسی انسان کے لیے انتہائی عظمت کی بات ہے۔ ایک شخص جس سے تکلیف پہنچی ہو، جس نے سخت شکایت کا موقع دیا ہو، اس کی بات سے مثبت اثر لینے کے لیے بہت اونچی انسانیت درکار ہے۔ مگر اس دنیا میں وہی لوگ اونچی ایمانی ترقی کرتے ہیں جو اس قسم کی اونچی انسانیت کا ثبوت دے سکیں۔ مردہ انسان کے لیے شکایت کا واقعہ اختتام کی حیثیت رکھتا ہے۔ مگر زندہ انسان کے لیے شکایت کا واقعہ ایک نئے دور کا آغاز بن جاتا ہے۔ ترک تعلق ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ امام بخاری نے اس کو کتاب الادب میں نقل کیا ہے۔ امام مسلم نے کتاب البر والصلہ میں حسب ذیل باب کے تحت اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page