ترک تعلق
Urdu book, p. 252
By Maulana Wahiduddin Khan
کو شامل کیا ہے: بَابُ تَحْرِيمِ الْهِجْرَةِ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ بِلَا عُذْرٍ شَرْعِي۔ یعنی، یہ عذر شرعی کے بغیر تین دن سے زیادہ ترک تعلق حرام ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: عن ابی ایوب الانصاري ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6077)۔ یعنی، ابو ایوب انصاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کسی مسلم کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے ۔ وہ ملیں تو یہ اس سے منہ پھیر لے اور وہ اس سے منہ پھیر لے۔ اور دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے ۔ امام نووی (1277-1233ھ) نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علما نے کہا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان تین دن سے زیادہ ترک تعلق حرام ہے اور ابتدائی تین دن تک جائز ہے: قَالَ الْعُلَمَاءُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ تَحْرِيمِ الْهِجْرِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِ لَيَالٍ وَإِبَاحَتُهَا فِي الثَّلَاثِ الْأُولِ (شرح النووی علی مسلم، جلد 16 ، صفحہ 117) ۔ آدمی جب بھی کسی سے ترک تعلق کرتا ہے تو وہ ہمیشہ کسی شکایت کی بنا پر کرتا ہے۔ اس لیے حدیث میں یہ بات اپنے آپ شامل ہے کہ تم کو اپنے بھائی سے خواہ کتنی ہی زیادہ شکایت ہو جائے تمہارے لیے بہر حال ایسا کرنا جائز نہیں کہ تم مستقل طور پر اس سے تعلق توڑ لو اور سلام و کلام بند کردو۔ شکایت کے موقع پر چونکہ آدمی غصہ کا شکار ہو جاتا ہے، اس لیے فرمایا کہ تم کو تین دن کی رخصت ہے۔ تین دن تک ترک تعلق جائز ہے، اور اس کے بعد ترک تعلق حرام۔ اگر کسی کو کسی سے شکایت ہے اور وہ ختم نہیں ہو رہی ہے تو اس کے لیے دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ بات چیت کے ذریعہ وہ شکایت کو رفع کرنے کی کوشش کرے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader