دینِ انسانیت
Urdu book, p. 253
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسرے یہ کہ سارے معاملے کو وہ اللہ کے اوپر ڈال دے۔ مگر جہاں تک ترک تعلق کا معاملہ ہے، وہ کسی بھی حال میں کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں۔ برائی کی قسمیں عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ عَلَى الْخِلَالِ كُلِّهَا إِلَّا الْخِيَانَةَ وَالْكَذِبَ (مسند احمد، حدیث نمبر 22170)۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن میں تمام خصلتیں پائی جاسکتی ہیں، سو اخیانت اور جھوٹ کے۔ انسانی غلطیوں کا سبب عام طور پر دو ہوتا ہے، ایک ہوس، اور دوسرے دنائت۔ ہوس کے تحت ہونے والی غلطی وہ ہے جو کوئی آدمی نفسیاتی جذبے سے مغلوب ہو کر کر بیٹھتا ہے ۔ دنائت کے تحت کی جانے والی غلطی وہ ہے جو کمینہ صفت ہونے کی بنا پر کسی شخص سے صادر ہوتی ہے۔ حدیث میں جو بات کہی گئی ہے اس کی وجہ یہی فرق ہے۔ کوئی شخص جب کسی دوسری اخلاقی برائی میں ملوث ہوتا ہے، مثلاً غصہ میں کوئی سخت کارروائی کرنا، تو اس کا سبب نفس کی کمزوری ہوتی ہے۔ مخصوص حالات میں آدمی کے اوپر نفس کا غلبہ ہو جاتا ہے اور وقتی مغلوبیت کے تحت وہ ایک غلط فعل کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے۔ پھر جب نفسانی مغلوبیت ختم ہوتی ہے تو اس کے اوپر شدت سے ندامت کا احساس طاری ہو جاتا ہے۔ وہ خود اپنے آپ کو ملامت کرنے لگتا ہے کہ میں نے کیوں ایسا کیا۔ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ مگر خیانت اور کذب کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ یہ برائی کی وہ قسم ہے جو کمینہ پن کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader