دینِ انسانیت
Urdu book, p. 254
By Maulana Wahiduddin Khan
بنا پر آدمی سے صادر ہوتی ہے۔ اس کا ارتکاب وہ شخص کرتا ہے جس کی روح گندی ہو گئی۔ اس کا سبب وقتی مغلوبیت نہیں، بلکہ شر پسندی کی مستقل خصلت کی بنا پر آدمی اس کا ارتکاب کرتا ہے۔ ایسا فعل وہ شخص کرتا ہے جس کی روح مسخ ہو گئی ہو۔ اسی لیے وہ خیانت اور جھوٹ جیسی برائی کا مرتکب ہونے کے باوجود مطمئن رہتا ہے۔ اس کو کسی قسم کی بے چینی لاحق نہیں ہوتی اور نہ تو بہ اور ندامت کی کیفیت اس کے اندر پیدا ہوتی۔ جو برائی وقتی مغلوبیت کے تحت صادر ہو، اس کے متعلق امید ہے کہ اللہ اسے معاف کر دے گا۔ لیکن جس برائی کا سبب روحانی گندگی ہو اس کے لیے معافی کا کوئی سوال نہیں۔ صبر و ہمدردی قرآن کی سورہ نمبر 90 میں بتایا گیا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو خوش نصیب ہیں اور جن کو خدا کی طرف سے بڑے بڑے انعامات دیے جائیں گے۔ اس سلسلہ میں ارشاد ہوا ہے : ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ - أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ (90:17-18) - یعنی، اور پھر وہ ان لوگوں میں سے ہو جو ایمان لائے اور ایک دوسرے کو صبر کی اور ایک دوسرے کو ہمدردی کی نصیحت کی۔ یہی لوگ نصیب والے ہیں۔ اللہ پر ایمان تمام نیکیوں کا آغاز ہے۔ آدمی جب اللہ پر ایمان لاتا ہے تو ایک طرف وہ اپنے خالق و مالک کے سلسلہ میں بندگی کے تقاضے پورا کرتا ہے۔ اور دوسری طرف وہ اپنے اندر وہ اعلیٰ استعداد پیدا کرتا ہے جس کی مدد سے وہ خدا کے بندوں کے درمیان مطلوب انسان بن کر رہ سکے۔ بندوں کے سلسلہ میں ایک انسان سے جو چیز مطلوب ہے وہ ایک لفظ میں، مرحمت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader