Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 255

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ یعنی سب کے حق میں ہمدردی اور مہربانی۔ سب کے لیے سچا خیر خواہ بن کر ان کے درمیان زندگی گزارنا۔ کسی شخص کا ذکر ہو تو اس کے حق میں وہی کلمات اپنی زبان سے نکالنا جو اس کے لیے موزوں ترین ہوں۔ کسی سے سابقہ پیش آئے تو اس سے ہمیشہ بہترین سلوک کیا جائے۔ کسی سے معاملہ پڑے تو وہی کیا جائے جو اس کی خیر خواہی کے مطابق ہو۔ دوسرے انسانوں کے ساتھ تعلقات کو مہربانی کی بنیاد پر قائم کیا جائے۔ مگر اس دنیا میں لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور مہربانی کا سلوک صبر و برداشت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اس دنیا میں لازمی طور پر ایسا ہوگا کہ ایک آدمی کو دوسرے آدمی کی طرف سے شکایت پہنچے گی۔ ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان ٹکراؤ کے اسباب پیدا ہوں گے۔ ایک شخص سے ایسا قول یا فعل صادر ہوگا جس سے دوسرے کی انا کو ٹھیس پہنچ جائے۔ اس لیے مرحمت کی روش پر چلنے کے لیے صبر کی طاقت ضروری ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ قرآن کے مطابق آپ مرحمت والے سلوک پر پورے اتریں تو آپ کو یک طرفہ طور پر دوسروں کی فرضی یا حقیقی زیادتیوں کو برداشت کرنا ہوگا۔ آپ کو اپنے اندر سے شکایتی مزاج کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ اسی کا نام صبر ہے، اور اس صبر کے بغیر کسی کے لیے نصیبہ والا بننا ممکن نہیں۔ سچی ہوشیاری حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی مسجد نبوی میں تھے۔ صحابہ کی ایک تعداد آپ کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔ اتنے میں انصار کا ایک نوجوان آیا۔ نوجوان نے آپ سے کچھ سوالات کیے جن کا آپ نے جواب دیا۔ وہ سوال و جواب یہ تھا: قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، قَالَ: فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْيَسُ؟ قَالَ: أَكْثَرُهُمْ لِلْمَوْتِ ذِكْرًا، وَأَحْسَنُهُمْ لِمَا بَعْدَهُ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page