Urdu book · دینِ انسانیت

اعلیٰ ظرفی

Urdu book, p. 257

By Maulana Wahiduddin Khan

اعلٰی ظرفی مولانا اشرف علی تھانوی (1943-1863) رحمتہ اللہ علیہ نے سر سید مرحوم (1898-1817ء) کا ایک واقعہ (الافاضات الیومیہ، جلد 1) ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ایک انگریزی تعلیم یافتہ شخص ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے پریشان تھا۔ کیا سوجھی کہ ایک بڑے انگریز افسر کے پاس پہنچا اور کہا کہ میں سرسید کا داماد ہوں مجھ کو ملازمت کی ضرورت ہے۔ وہ انگریز بہت ہی خاطر سے پیش آیا اور کہا کہ آپ ٹھہریں۔ اس کو ٹھہرا کر اس کی لاعلمی میں ایک تار سرسید کو دیا کہ فلاں شخص اس نام کا ہمارے پاس ملازمت کے خیال سے آیا ہے اور اپنے آپ کو آپ کا داماد کہتا ہے کیا یہ واقعہ صحیح ہے؟ جواب میں سرسید نے اس انگریز کو لکھا بالکل صحیح ہے۔ ضرور آپ ملازمت کے لیے کوشش فرمادیں میں آپ کا ممنون ہوں گا۔ اس شخص کو ملازمت مل گئی۔ ایک روز اتفاقاً اس انگریز نے اس شخص سے یہ واقعہ (سرسید سے تحقیق حال کا) بیان کر دیا۔ یہ بہت ہی شرمندہ ہوا اور کچھ عرصہ کے بعد یہ شخص علی گڑھ آیا۔ اور سرسید سے مل کر معافی کی درخواست کی اور کہا میں وہی ہوں جس نے اپنے آپ کو آپ کا داماد بتا کر ملازمت لی ہے۔ یہ گستاخی بضرورت تھی۔ سرسید نے جواب میں کہا کہ گو یہ بات اس وقت غلط تھی۔ مگر اب صحیح ہو جائے گی، داماد کہتے ہیں بیٹی کے شوہر کو۔ اس کی ایک صورت تو یہ تھی کہ میری بیٹی آپ کی بیوی ہوتی، سو یہ تو نہیں ہو سکتا۔ مگر دوسری صورت ممکن ہے وہ یہ کہ آپ کی بیوی کو میں اپنی بیٹی بنالوں، سو میں آپ کی بیوی کو اپنی بیٹی بناتا ہوں اور وہ میری بیٹی اور میں اس کا باپ!

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page