Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 258

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ تو جبہہ وقتی ہی نہ تھی۔ بلکہ تازیندگی باپ بیٹی اور داماد کا سا برتاؤ رکھا۔ بلانا، لینا دینا سب اسی طرح رکھا۔ ( تہذیب الاخلاق علی گڑھ) ساری دنیا کا ہمدرد بننا بہت آسان ہے۔ مگر قوم کا ایک مصیبت زدہ فرد، جس سے ٹھیس بھی پہنچی ہو، اس کے معاملہ کو اپنا معاملہ بنا لینا سخت مشکل ہے۔ یہ وہی شخص کر سکتا ہے جو قوم کا سچا خیر خواہ ہو اور اسی کے ساتھ بڑے دل والا بھی۔ مومنانہ طریقہ مولاناشبلی نعمانی(1914-1857) کی آخر زندگی میں یہ حادثہ پیش آیا کہ گھر میں بھری ہوئی بندوق چل گئی جس کی وجہ سے ان کا ایک پاؤں شدید طور پر زخمی ہوا اور بالآخر اس کو ڈاکٹروں نے کاٹ دیا۔ اس حادثہ پر شاعروں نے طرح طرح کے مضامین باندھے۔ کسی نے کہا’’ ہمت کا قدم زمیں پہ گاڑ دیا‘‘۔ کسی نے لکھا’’ سیرت نگار نبوی نے حوروں کی پابوسی کے لیے پہلے ہی سے قدم بھیج دیا‘‘ وغیرہ۔ مگر خود مولانا شبلی کے جذبات دوسرے تھے۔ انہوں نے اپنے اس حادثہ پر یہ شعر کہا: شبلی نامہ سیاہ را بجز اے عملش پابر یدند و صدا خاست که سرمی باید یعنی شبلی کے سیاہ اعمال کی وجہ سے اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا تو اوپر سے آواز آئی کہ پاؤں نہیں سر کی ضرورت ہے۔ یہی مومن کا طریقہ ہے۔ مومن کبھی دوسروں کی تعریف سے غلط فہمی میں نہیں پڑتا۔ عین اس وقت جب کہ لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں، اس کی اندرونی نفسیات اس کو اپنی بے حقیقتی یاد دلاتی ہے جب اس کے نام پر استقبالیہ پیش کیا جاتا ہے تو وہ برعکس طور پر اپنے ذاتی احتساب میں مشغول ہو جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page