دینِ انسانیت
Urdu book, p. 259
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسروں کی تعریف سے اپنی شخصیت کے قد کو ناپنا انتہائی سطحیّت کی بات ہے، اور مومن سب سے زیادہ اس سطحیّت سے دور ہوتا ہے۔ مومن وہ ہے جو اپنے آپ کو خدا کی نسبت سے جانچے۔ نہ کہ انسان کی نسبت سے۔ اور جو شخص اپنے آپ کو خدا کی نسبت سے جانچے کبھی غلط فہمی کا شکار نہیں ہو سکتا۔ تعریف مومن کی تواضع کو بڑھاتی ہے، اور جو غیر مومن ہو اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ تعریف سے صرف اس کے جھوٹے پندار میں اضافہ ہوتا ہے اپنے کو قابل تعریف سمجھنا، اپنے آپ کو خدا کا ہمسر بنانا ہے۔ اور خدا کا ہمسر بننا، بلاشبہ کسی انسان کا سب سے بڑا جرم ہے۔ مومن کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کو ہر موقع پر خدا یاد آتا ہے۔ مذمت کا پہلو ہو یا تعریف کا، ہمیشہ وہ خدا کی طرف رجوع کرتا ہے۔ جب کوئی شخص اس کی تعریف کرتا ہے تو وہ عین اپنے مزاج کی بنا پر خدا کو یاد کرنے لگتا ہے جو تمام بڑوں سے زیادہ بڑا ہے۔ خدا کی عظمت کا احساس اس سے ذاتی عظمت کے احساس کو چھین لیتا ہے۔ تعریف اس کی تواضع کو بڑھانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ چھوٹا واقعہ بڑا سبق مولانا سید امیر علی (1921-1858) ملیح آباد میں پیدا ہوئے اور لکھنؤ میں وفات پائی۔ انہوں نے مڈل اسکول تک تعلیم حاصل کی تھی کہ ان کی تعلیم چھوٹ گئی۔ غربت کی وجہ سے انہیں ملازمت تلاش کرنی پڑی۔ بہرائچ کے ایک سب پوسٹ آفس میں ان کو پوسٹ ماسٹر کی جگہ مل گئی۔ ملازمت کی ضرورت کے تحت انہوں نے معمولی انگریزی سیکھ لی اور کام کرنے لگے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader