Urdu book · دینِ انسانیت

چھوٹا واقعہ بڑا سبق

Urdu book, p. 260

By Maulana Wahiduddin Khan

گھر یلوتربیت کے تحت وہ نماز کے پابند تھے۔ ایک دن وہ جمعہ کی نماز کے لیے مسجد گئے۔ اسی وقت سرکاری افسر ڈاک خانہ کے معائنہ کے لیے آ گیا۔ پوسٹ ماسٹر کو غیر حاضر پا کر وہ بہت غصہ ہوا۔ سید امیر علی صاحب کو مسجد میں اطلاع پہنچی تو وہ وضو کر رہے تھے۔ انہوں نے اس کا کوئی اثر نہیں لیا۔ اطمینان کے ساتھ نماز پڑھ کر واپس آئے۔ افسر مذکور نے پوچھ گچھ کی تو وہ چپ رہے۔ نہ کوئی جواب دیا اور نہ کسی قسم کی معذرت کی۔ خاموشی کے ساتھ ایک کا غذ لیا۔ اس پر اپنا استعفا لکھا اور افسر کو دے کر گھر چلے گئے۔ سید امیر علی صاحب اس وقت تک صرف اردو اور کچھ انگریزی جانتے تھے۔ وہ عربی اور فارسی سے نا واقف تھے۔ استعفا کے بعد انہیں ایک جھٹکا لگا۔ انہوں نے سوچا کہ جس دین کی خاطر میں نے ملازمت سے استعفا دیا ہے، اس کی بابت براہ راست میں کچھ بھی نہیں جانتا۔ حتی کہ اس سلسلہ میں کوئی شخص سوال کرے تو میں اس کا جواب بھی نہیں دے سکتا۔ میں نماز ضرور پڑھتا ہوں مگر نماز کا مطلب کیا ہے، اس سے میں بے خبر ہوں۔ قرآن وحدیث سے مجھے کوئی واقفیت نہیں۔ اب ان کے اندر ایک نیا جذبہ جاگ اٹھا۔ انہوں نے عربی اور فارسی پڑھنے کا فیصلہ کیا۔ عربی زبان میں انہوں نے اتنی مہارت پیدا کی کہ ماہر علما میں شمار کیے جانے لگے۔ دارالعلوم ندوۃ العلما میں وہ شیخ الحدیث مقرر ہوئے۔ مدرسہ عالیہ کلکتہ میں صدر مدرس رہے۔ منشی نول کشور (وفات 1895) کے مطبع سے وابستہ ہو کر بڑی بڑی عربی کتابوں کے اردو ترجمے کیے، مثلاً صحیح بخاری، فتاویٰ عالمگیر، وغیرہ (قومی آواز 4 فروری 1990)۔ آدمی کے اندر اگر زندگی ہو تو ایک معمولی واقعہ اس کے اندر حرکت پیدا کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ عالی شان کارنامے انجام دے سکے۔ اور جس آدمی کے اندر زندگی نہ ہو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page