دینِ انسانیت
Urdu book, p. 261
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے ساتھ بڑے بڑے واقعات پیش آئیں گے مگر وہ اس طرح پڑا رہے گا جیسے اس نے نہ کچھ جانا اور نہ کوئی سبق لیا۔ دو انسان ایک بزرگ کا واقعہ ہے۔ کسی مسئلہ پر ان کی گفتگو ایک شخص سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران بزرگ کی زبان سے کچھ سخت الفاظ نکل گئے۔ اس کے بعد دونوں الگ ہو گئے۔ یہ شام کا وقت تھا۔ عشاء کی نماز کے بعد جب بزرگ اپنے بستر پر گئے تو انہوں نے محسوس کیا کہ ان کے اندر بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔ ان کا دل انہیں ملامت کرنے لگا کہ تم نے خدا کے ایک بندے کے ساتھ سخت کلامی کی۔ تم نے اپنے مقابلہ میں اس کو حقیر سمجھا۔ تمہارے اندر ابھی تک گھمنڈ کا جذبہ چھپا ہوا ہے۔ خدا کے یہاں اگر وہی آدمی بلند مرتبہ ہو اور تم خدا کے یہاں بے قیمت ٹھہر و تو تم کیا کرو گے۔ تم کو یہ حق تو تھا کہ اپنے بھائی کی رائے سے اختلاف کرو۔ مگر تم کو یہ حق نہ تھا کہ برے الفاظ بول کر اس کو ذلیل کرو۔ اس قسم کے خیالات نے بزرگ کو اتنا بے چین کیا کہ ان کی نیند اڑ گئی، وہ رات بھر اپنے بستر پر کروٹیں بدلتے رہے۔ ایک بار وہ بستر سے اٹھے اور وضو کر کے نماز پڑھنا شروع کیا، مگر انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے خدا ان کی نماز کو ان کے چہرہ پر مار رہا ہے۔ ان کی پریشانی اور زیادہ بڑھ گئی۔ صبح ہوتے ہی انہوں نے فجر کی نماز ادا کی اور اس کے بعد فوراً مذکورہ آدمی کے گھر پہنچے۔ اس سے ملاقات کر کے اس سے معافی مانگی۔ اس وقت حال یہ تھا کہ ایک طرف ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور دوسری طرف زبان سے یہ نکل رہا تھا۔ ”خدا کے واسطے مجھے معاف کر دو۔“

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader