Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 267

By Maulana Wahiduddin Khan

سَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ عز وجل يُحِبُّ أَنْ يُسْأَلَ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3571)۔ یعنی، اللہ سے اس کا فضل مانگو۔ کیونکہ اللہ پسند کرتا ہے کہ اس سے مانگا جائے۔ اِنَّ الدُّعَاءَ يَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ يَنْزِلُ، فَعَلَيْكُمْ عِبَادَ اللَّهِ بِالدُّعَاءِ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3548)۔ یعنی، دعا ان چیزوں کے لیے بھی مفید ہے جو اُتر چکی ہیں اور ان چیزوں میں بھی جو ابھی نہیں اُتریں۔ تو اے اللہ کے بندو، تم ضرور دعا مانگو۔ لِيَسْأَلْ أَحَدُكُمْ رَبَّهُ حَاجَتَهُ كُلَّهَا حَتَّى يَسْأَلَ شِسْعَ نَعْلِهِ إِذَا اِنْقَطَعَ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3604)۔ یعنی، تم میں سے ہر ایک کو اپنے رب سے اپنی تمام حاجت مانگنا چاہیے، یہاں تک کہ اگر اس کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو اس کو بھی وہ خدا سے مانگے۔ دعا کرنے والا اپنے آپ کو عاجز مطلق کے مقام پر رکھتا ہے اور خدا کو قادر مطلق کے مقام پر۔ دعا ایک طرف اپنی حیثیت واقعی کا اقرار ہے اور دوسری طرف خدا کی حیثیت واقعی کا اعتراف۔ یہ حقیقت پسندی کی آخری شکل ہے اور حقیقت پسندی بلا شبہ اس دنیا کا سب سے بڑا عمل ہے۔ حقیقت واقعہ کے اعتراف سے بڑا کوئی عمل اس امتحان کی دنیا میں نہیں۔ بعضکم من بعض قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو عورت اور مرد آسمان اور زمین کی نشانیوں میں غور کرتے ہیں وہ تخلیق کے اس نظام میں خالق کے وجود کو پا لیتے ہیں۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ کائنات کے خالق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page