Urdu book · دینِ انسانیت

خاتون جنت

Urdu book, p. 274

By Maulana Wahiduddin Khan

3۔ قنوت کا مطلب مخلصانہ فرمان برداری ہے۔ اس سے مراد یہ کہ ذہن کی پوری یکسوئی اور دل کی پوری آمادگی کے ساتھ اس طریقہ کو اختیار کر لیا جائے جو خدا اور رسول نے بتایا ہے۔ تعمیل حکم میں جب قلب کا جھکاؤ اور خضوع شامل ہو جائے تو اسی کو قنوت کہا جاتا ہے۔ 4۔ صدق کے معنی سچائی کے ہیں۔ اس سے مراد قول اور عمل کی مطابقت ہے، یعنی وہی کہنا جو آپ کو کرنا ہے اور وہی کرنا جو آپ نے اپنی زبان سے کہا ہے۔ لوگوں کے درمیان آپ ایک صاحب کردار خاتون کی حیثیت سے زندگی گزاریں۔ 5۔ صبر ایک بہادرانہ صفت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کے احکام پر چلنے کے لیے اگر تکلیف اٹھانا پڑے تب بھی اس سے نہ ہٹنا۔ نفس اور شیطان کا مقابلہ کرتے ہوئے دینی تقاضوں پر جمے رہنا۔ مخالفانہ محرکات کے باوجود خدائی راستہ کو نہ چھوڑنا۔ 6۔ خشوع سے مراد تواضع اور خاکساری ہے۔ خدا کی بڑائی اور اس کے کامل اختیار کے تصور سے کسی کے اندر جو کیفیت پیدا ہوتی ہے اسی کو خشوع کہا جاتا ہے۔ یہ احساس مومن اور مومنہ کو خدا کے آگے بالکل جھکا دیتا ہے۔ خدا کے خوف سے ان کے دل لرز اٹھتے ہیں اور ان کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ 7۔ صدقہ کا مطلب خیرات ہے۔ یعنی آپ اپنے مال میں سے دوسرے ضرورت مندوں کا حق نکالیں۔ جس طرح اپنی ضرورت کا احساس آپ کو اپنے اوپر خرچ کرنے کے لیے مجبور کرتا ہے اسی طرح دوسرے حاجت مندوں کی امداد سے بھی بے پروا نہ رہیں۔ 8۔ صوم کا مطلب اللہ کے لیے روزہ رکھنا ہے۔ روزہ شکر کی تربیت ہے۔ روزہ رکھنا گویا اپنے آپ کو اس حالت کی طرف لے جانا ہے جب کہ آپ خدا کے مقابلہ میں اپنی محتاجی کا تجربہ کریں۔ اور پھر آپ کے اندر اس رزق کے اوپر خدا کے شکر کا جذبہ بیدار ہو جو اس نے اپنے خزانہ رحمت سے آپ کو عطا کیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page