Urdu book · دینِ انسانیت

خاتون جنت

Urdu book, p. 275

By Maulana Wahiduddin Khan

9۔ حفظ فروج کا لفظی مطلب شرمگاہوں کی حفاظت ہے۔ یعنی دنیا کی زندگی میں عفت اور پاک دامنی کا طریقہ اختیار کرنا اور بے حیائی والے اعمال سے بچنا۔ حیا کا فطری پردہ جو خدا نے پیدا کیا ہے اس کا پورا لحاظ رکھنا۔ 10۔ ذکر اللہ کا مطلب اللہ کی یاد ہے۔ خدا کو بہت زیادہ یاد کرنا خدا کی معرفت کا لازمی نتیجہ ہے۔ جو کوئی خدا کو حقیقی طور پر پا لیتا ہے اس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ ہر موقع پر اس کو خدا کی یاد آتی ہے۔ اس کی روح خدا کے تصور سے اس طرح سرشار ہو جاتی ہے کہ بار بار اس کو خدا کی یاد آتی رہے۔ 11۔ توبہ کے لفظی معنی ہیں پلٹنا۔ یعنی غلطی کرنے کے بعد پھر صحیح روش کی طرف لوٹ آنا۔ یہ کسی مومنہ کی خاص صفت ہے۔ امتحان کی اس دنیا میں ہر ایک سے بار بار غلطیاں ہوتی ہیں۔ ایسے موقع پر یہ ہونا چاہیے کہ نفس کے غلبہ سے جب وقتی طور پر کسی سے غلطی ہو جائے تو اس کے بعد خدا کی پکڑ کا احساس اس پر طاری ہو اور وہ فوراً پلٹ کر خدا سے معافی مانگنے لگے۔ 12۔ عبادت سے مراد پرستش ہے۔ یعنی وہ خاشعانہ عمل جو خدا کی عظمت اور برتری کو مان کر اس کے سامنے کیا جائے۔ اس قسم کی پرستش اللہ کے سوا کسی اور کے لیے جائز نہیں۔ جنتی خاتون کی پہچان یہ ہے کہ وہ صرف ایک خدا کی پرستار بن گئی ہو۔ 13۔ سیاحت سے مراد روزہ جیسے ریاضتی اعمال ہیں۔ اس کی روح زہد ہے۔ کسی مومنہ پر جب آخرت کی فکر اتنی زیادہ غالب آ جائے کہ وہ دنیا سے بے رغبت ہو جائے اور دنیا کی چیزوں میں اس کا شوق باقی نہ رہے تو اس وقت اس کی جو زاہدانہ زندگی بنتی ہے اسی کو یہاں سیاحت کہا گیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page