Urdu book · دینِ انسانیت

فطرت کا نظام

Urdu book, p. 276

By Maulana Wahiduddin Khan

فطرت کا نظام قرآن میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں ہر چیز کو جوڑے کے صورت میں بنایا ہے : وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (51:49)۔ اسی اصول فطرت کے مطابق انسان کو بھی دو حصوں کی صورت میں تخلیق کیا گیا ہے۔ اس کا ایک حصہ مرد ہے اور اس کا دوسرا حصہ عورت ۔ یہ خود خالقِ فطرت کا تخلیقی منصوبہ ہے۔ ہر مرد اور عورت پر لازم ہے کہ وہ اس منصوبے کو تسلیم کرے ۔ اس کو رد کر کے زندگی کا کوئی اور نقشہ بنانا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ اس فطری منصوبے کو ماننے ہی کا نام کامیابی ہے اور اس کو نہ ماننے کا نام ناکامی۔ زوجین کی اس تقسیم کا تقاضا ہے کہ اس کا ہر فریق اپنی حیثیت کو اور اپنے کار منصبی کو جانے۔ مرد کو یہ جاننا ہے کہ اس کے حقوق اور اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔ اسی طرح عورت کو یہ جاننا ہے کہ اس کے حدود کار کیا ہیں۔ زندگی کے نظام میں خالقِ فطرت نے اس کو کیا درجہ عطا فرمایا ہے۔ ایک لفظ میں اس کا جواب یہ ہے کہ مرد باہر کا منتظم کار ہے اور عورت گھر کی سردار ہے۔ اصولی تقسیم کے مطابق ، مرد کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ باہر کے معاملات کو سنبھالے، اور عورت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ گھر کے امور کو سنوارے اور ان کو درست کرے ۔ تاہم اس تقسیم کار کو خوش اسلوبی کے ساتھ چلانے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی نزاکتوں کو سمجھیں، دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کامل تعاون کریں۔ مثلاً مرد جو ماہانہ رقم کماتا ہے، عورت اگر گھر کے اخراجات کا بجٹ اس سے زیادہ بنائے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page