Urdu book · دینِ انسانیت

فطرت کا نظام

Urdu book, p. 277

By Maulana Wahiduddin Khan

تو گھر کے نظام کا خوش اسلوبی کے ساتھ چلنا نا ممکن ہو جائے گا۔ اسی طرح مرد اپنے جن رشتہ داروں کو عزیز رکھتا ہے، عورت ان کے ساتھ رقابت قائم کرلے۔ مرد جن لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہتا ہے، عورت ان کو اپنا دشمن سمجھ لے۔ مرد سماج کے اندر جن تعلقات کو نبھانا چاہتا ہے، عورت ان کو توڑنے کے درپے ہو جائے۔ مرد وسیع تر مفاد کی خاطر جن لوگوں کو دوست رکھنا چاہتا ہے، عورت ان سے قطع تعلق کی وکیل بن جائے۔ اس قسم کی تمام باتیں فطرت کے نظام میں خلل ڈالنے کے ہم معنی ہیں۔ جب بھی کوئی عورت ایسا کرے گی تو وہ صرف ایک مرد سے عدم موافقت کرنے والی نہیں ہوگی بلکہ وہ خود نظام فطرت سے عدم موافقت کی مجرم قرار پائے گی۔ عورت پر لازم ہے کہ وہ صرف اپنے جذبات کورہنما نہ بنائے، بلکہ خالق فطرت کے منصوبہ پر نظر رکھے۔ وہ اس حقیقت کا اعتراف کرے کہ وہ انسانیت کے وجود کا نصف ہے، نہ کہ کل۔ اس کو اپنے جذبات کے ساتھ نظام فطرت کو بھی دیکھنا ہے، اور جہاں اس کے ذاتی احساسات اور فطرت میں ٹکراؤ ہو وہاں اپنے احساسات کو دبانا ہے، اور فطرت کے نظام کو خوش دلی کے ساتھ اختیار کر لینا ہے۔ کائنات کا نظام اسی موافقت باہمی کے اصول پر چل رہا ہے۔ کائنات کا ہر جزء پورے جذبہ اطاعت کے ساتھ دوسرے اجزاء کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر اپنا وظیفہ ادا کر رہا ہے۔ یہی معاملہ گھر کے نظام میں بھی مطلوب ہے۔ یہاں بھی عورت کو گھر کے مجموعی نظام سے ہم آہنگی اختیار کرتے ہوئے اپنی زندگی کا نقشہ بنانا ہے۔ اسی ہم آہنگی میں اس کے لیے ہر قسم کی سعادت اور ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔ گھر کے نظام کو خوش اسلوبی کے ساتھ چلانے کے لیے عورت کو اپنے ساتھ دوسروں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page