Urdu book · دینِ انسانیت

تربیت اولاد

Urdu book, p. 297

By Maulana Wahiduddin Khan

دادا سے سنا۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ باپ کی طرف سے اپنے بیٹے کے لیے اس سے بہتر کوئی عطیہ نہیں کہ وہ اس کو اچھے آداب سکھائے۔ مَانَحَلَ وَالِدٌ وَلَدًا مِنْ نَحْلِ اَفْضَلَ مِنْ اَدَبٍ حَسَنٍ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 1952؛ شعب الإیمان للبیہقی، حدیث نمبر 1554)۔ اس حدیث میں بظاہر صرف والد کا ذکر ہے مگر تبعاً اس سے مراد والد اور والدہ دونوں ہیں۔ نیز ادب کا لفظ یہاں تعلیم و تربیت کے تمام پہلوؤں کے لیے جامع ہے، خواہ وہ مذہبی نوعیت کی چیزیں ہوں یا دنیاوی نوعیت کی چیزیں۔ عورت اور مرد کو فطری طور پر اپنی اولاد سے غیرمعمولی محبت ہوتی ہے۔ اس حدیث میں بتایا گیا کہ اس محبت کا بہترین استعمال کیا ہے یا کیا ہونا چاہیے۔ وہ استعمال یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کو آداب زندگی سکھائیں۔ وہ اپنے بچوں کو بہتر انسان بنا کر دنیا کے کارزار میں داخل کریں۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ والدین اپنی محبت کا استعمال زیادہ تر اس طرح کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی ہر خواہش پوری کرنے میں لگے رہتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ بچہ جو چاہے وہ اس کے لیے حاضر کر دیا جائے، یہی بچہ کے لیے محبت کا سب سے زیادہ بڑا استعمال ہے، مگر یہ بچوں کے حق میں خیر خواہی نہیں۔ چھوٹا بچہ اپنی خواہشوں کے سوا کچھ اور نہیں جانتا۔ اس کی سوچ بس یہ ہوتی ہے کہ اس کے دل میں جو خواہش آئے وہ فوراً پوری ہو جائے۔ مگر یہ طفلانہ سوچ ہے۔ کیونکہ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بچہ ایک دن بڑا ہوگا۔ وہ بڑا ہو کر دنیا کے میدان میں داخل ہوگا۔ زندگی کے اس اگلے مرحلہ میں کامیاب ہونے کے لیے بچہ کو جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ کہ وہ آداب حیات سے مسلح ہو کر وہاں پہنچا ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page