Urdu book · دینِ انسانیت

تربیت اولاد

Urdu book, p. 298

By Maulana Wahiduddin Khan

بچہ جب بالکل چھوٹا ہو اسی وقت سے اس کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ شروع کر دینا چاہیے تا کہ یہ چیزیں عادت بن کر اس کی زندگی میں داخل ہو جائیں۔ زندگی کے ان آداب کے تین خاص پہلو ہیں— دین، اخلاق، ڈسپلن۔ دین کے اعتبار سے بچہ کی تربیت کا آغاز پیدائش کے فوراً بعد ہو جاتا ہے جب کہ اس کے کان میں اذان کی آواز داخل کی جاتی ہے۔ یہ علامتی انداز میں اس بات کا اظہار ہے کہ بچہ کو دین دار بنانے کا عمل آغاز عمر ہی سے شروع کر دینا ہے۔ یہ کام ماں اور باپ دونوں کو کرنا ہے۔ والدین کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ بچہ کے اندر توحید اور اسلامی عقائد خوب پختہ ہو جائیں۔ ذکر اور عبادت اس کی زندگی کے لازمی اجزاء بن کر اس کی شخصیت میں شامل ہو جائیں۔ وہ نماز، روزہ کا پابند ہو۔ صدقہ اور خیرات کا شوق اس کے اندر پیدا ہو جائے۔ قرآن اور حدیث سے اس کو اس قدر شغف ہو جائے کہ وہ روزانہ اس کا کچھ نہ کچھ حصہ مطالعہ کرنے لگے۔ اس کو دیکھ کر ہر آدمی یہ کہہ دے کہ یہ بچہ ایک دین دار بچہ ہے۔ اخلاق کی تربیت کی صورت یہ ہے کہ ہر موقع پر بچہ کو سکھایا جائے ۔ اگر وہ غلطی کرے تو اس کو ٹوکا جائے۔ حتیٰ کہ اگر ضرورت ہو تو اس کی تنبیہہ کی جائے۔ بھائی بہنوں میں لڑائی ہو تو فوراً سمجھایا جائے۔ اگر کبھی بچہ جھوٹ بولے یا کسی کو گالی دے۔ یا کسی کی چیز چرالے تو نہایت سختی کے ساتھ اس کا نوٹس لیا جائے ۔ اور یہ سب بالکل بچپن سے کیا جائے تاکہ بچہ کی زندگی میں یہ چیزیں مستقل کردار کے طور پر شامل ہو جائیں۔ یہی طریقہ ڈسپلن کے بارے میں اختیار کرنا ہے۔ بچہ کو اوقات کی پابندی سکھائی جائے۔ چیزوں کو صحیح جگہ رکھنے کی عادت ڈالی جائے۔ کھانا پینا باقاعدہ وقت کے ساتھ ہو۔ اگر وہ کوئی کاغذ یا تھیلی سڑک پر پھینک دے تو فوراً اسی سے اس کو اٹھوایا جائے۔ شور کرنے سے روکا جائے ، ہر ایسی چیز سے بچنے کی تلقین کی جائے جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page