Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 299

By Maulana Wahiduddin Khan

بچے کی حقیقی تربیت کے لیے خود ماں باپ کو اپنا طرزِ زندگی اس کے مطابق بنانا ہوگا۔ اگر آپ اپنے بچے سے کہیں کہ جھوٹ نہ بولو، اسی کے ساتھ آپ یہ کریں کہ جب کوئی شخص دروازہ پر دستک دے تو کہلوادیں کہ وہ اس وقت گھر پر نہیں ہیں تو ایسی حالت میں بچہ کو جھوٹ سے روکنا بے معنی ہوگا۔ اگر آپ سگریٹ پیتے ہوں تو بچہ کے سامنے اسموکنگ کے خلاف تقریر کرنا بے معنی ہے۔ اگر آپ وعدہ پورا نہ کرتے ہوں اور بچے سے کہیں کہ بیٹے ہمیشہ وعدہ پورا کرو، تو بچہ کبھی ایسی نصیحت کو نہیں پکڑے گا۔ بچہ اپنے والدین کو ماڈل کے روپ میں دیکھتا ہے۔ اسی طرح بڑا بچہ چھوٹے بچوں کے لیے ماڈل ہوتا ہے۔ اگر والدین اور بڑا بچہ ٹھیک ہو تو بقیہ بچے اپنے آپ سدھرتے چلے جائیں گے۔ صلح بہتر ہے عورت اور مرد کے درمیان مختلف قسم کے جھگڑے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ جھگڑا ختم ہونے والا ہی نہیں۔ اس طرح کے معاملات میں دونوں کیا کریں، اس کے بارے میں قرآن میں مختلف قسم کی ہدایات دی گئی ہیں۔ ایک جگہ نہایت اصولی رہنمائی دی گئی ہے جو اس قسم کے ہر معاملہ پر چسپاں ہوتی ہے۔ وہ ہدایت یہ ہے: وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزاً أَوْ إِعْرَاضاً فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحاً وَالصُّلْحُ خَيْرٌ ۚ وَأُحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّحَّ ۚ وَإِنْ تُحْسِنُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيراً (4:128)۔ یعنی، اور اگر کسی عورت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page