صلح بہتر ہے
Urdu book, p. 300
By Maulana Wahiduddin Khan
کو اپنے شوہر کی طرف سے بدسلوکی یا بے رخی کا اندیشہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ دونوں آپس میں کوئی صلح کر لیں، اور صلح بہتر ہے۔ اور حرص انسان کی طبیعت میں بسی ہوئی ہے۔ اور اگر تم اچھا سلوک کرو اور خدا ترسی سے کام لو تو جو کچھ تم کرو گے اللہ اس سے باخبر ہے۔ گھر یلو زندگی میں رشتہ داروں کے درمیان ہمیشہ جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ کبھی یہ نزاع صرف جذباتی نوعیت کی ہوتی ہے اور کبھی کسی واقعی معاملہ کے بارے میں ہوتی ہے۔ کبھی عورت سمجھتی ہے کہ مرد کی زیادتی ہے، اور کبھی مرد کا خیال ہوتا ہے کہ زیادتی کرنے والی عورت ہے۔ ایسے مواقع پر ہمیشہ دو طریقے ہوتے ہیں۔ ایک قرآن کے الفاظ میں، شح (حرص) کا طریقہ ہے، اور دوسرا صلح کا طریقہ۔ دونوں طریقوں کی نفسییات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔ ایک طریقہ کار رخ صرف اپنی طرف ہوتا ہے اور دوسرے طریقہ کار رخ دونوں کی طرف۔ جس عورت یا مرد کے اوپر حرص کی سوچ غالب ہو وہ معاملہ کو صرف اپنی نسبت سے دیکھے گا۔ اپنے جذبات کی رعایت، اپنے مفاد کا تحفظ، اپنے وقار کی بحالی، اپنی ضد کو پورا کرنے پر اصرار، بس انہیں دائروں میں اس کا ذہن چلے گا۔ ایسے لوگ اپنے کو جانیں گے مگر وہ دوسرے کے نقطہ نظر سے بے خبر رہیں گے۔ اس قسم کا مزاج ہمیشہ صرف جھگڑے کو بڑھاتا ہے، وہ کبھی جھگڑے کو ختم کرنے والا ثابت نہیں ہوتا۔ دوسرا طریقہ صلح کا طریقہ ہے۔ یعنی دونوں فریقوں کی رعایت کرتے ہوئے تصفیہ کی کوشش کرنا۔ یا کچھ لے کر اور کچھ دے کر معاملہ کو ختم کرنا۔ اس طریقہ میں سنجیدگی ہے۔ اس میں انصاف ہے۔ پہلا طریقہ اگر خود پسندی کا طریقہ ہے تو یہ دوسرا طریقہ انسانیت دوستی کا طریقہ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader