صلح بہتر ہے
Urdu book, p. 301
By Maulana Wahiduddin Khan
اس دنیا میں صلح کا طریقہ ہی کامیاب ہوتا ہے۔ نزاعات کا خاتمہ اگر ممکن ہوتا ہے تو اسی کے ذریعہ ہوتا ہے۔ جہاں تک حرص کے طریقہ کا معاملہ ہے، وہ صرف نزاع کو بڑھانے میں مددگار ہے۔ یہ طریقہ نزاع کو بڑھا کر اس کو ایسا فساد بنا دیتا ہے جہاں حریص اپنے ملتے ہوئے فائدے سے بھی محروم ہو کر رہ جائے۔ حرص اور صلح کے طریقوں کا تعلق صرف بیوی اور شوہر کے مخصوص معاملات سے نہیں ہے، اس کا تعلق تمام نزاعات سے ہے، خواہ وہ گھر کے محدود ماحول میں پیدا ہوں یا باہر کے وسیع تر ماحول میں۔ اور ساری تاریخ کا تجربہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی معاملہ کبھی حرص کے اصول پر چل کر نہیں ہوتا۔ یہاں جب بھی کوئی معاملہ حل ہوتا ہے تو وہ صلح کے اصول کو اختیار کر کے ہی حل ہوتا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ جب آپ یک طرفہ طور پر صرف اپنی خواہشات کو جانیں اور صرف اپنے حق پر اصرار کریں تو یہی مزاج فریق ثانی کے اندر بھی پیدا ہوگا۔ ایک ضد کے بعد جوابی ضد پیدا ہو کر معاملہ کو مزید پیچیدہ بنا دے گی، لیکن اگر آپ دو طرفہ انداز میں سوچیں ۔ آپ دوسرے سے کہیں کہ میں صلح اور امن چاہتا ہوں۔ آؤ ہم دونوں ضد کو چھوڑ دیں اور مفاہمت کے اصول پر چلتے ہوئے ادھر یا اُدھر معاملہ کو ختم کر دیں۔ جب آپ اس قسم کا مصالحانہ رویہ ظاہر کریں گے تو فریق ثانی کا ضمیر جاگ اٹھے گا۔ وہ بھی اپنی ضد کو چھوڑ دے گا اور کم سے کم پر راضی ہوتے ہوئے آپ سے صلح کر لے گا، جب کہ اس سے پہلے وہ زیادہ سے زیادہ کے لیے اصرار کر رہا تھا۔ خواہ گھر کا معاملہ ہو یا وسیع تر دائرہ میں سماج کا معاملہ، جب بھی کچھ مرد اور کچھ عورتیں مل جل کر رہیں تو لازماً ان میں نزاع کی صورتیں پیدا ہوں گی۔ ایسے مواقع پر آپ کو یہ کرنا چاہیے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader