دینِ انسانیت
Urdu book, p. 302
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ قرآن کی ہدایت کے مطابق احسان اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے ہوئے اسے جلد از جلد ختم کر دیں۔ حرص انسانی روح کو گندہ کرتی ہے، اور صلح کا طریقہ انسان کو غیرحقیقی جھگڑوں سے اوپر اٹھا کر اس کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اعلیٰ افکار میں جی سکے۔ حرص دنیا اور آخرت دونوں کی تباہی ہے، اس کے برعکس صلح دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی۔ انتظار کیجیے قرآن کی سورہ نمبر 65 میں طلاق اور اس سے پیدا شدہ مسائل کا ذکر ہے۔ اس ذیل میں یہ نصیحت کی گئی ہے کہ باہمی معاملات کو ہمدردی اور فراخ دلی کے ساتھ طے کرو۔ جب دو آدمیوں میں تفریق ہوتی ہے تو ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ چیز اپنے لیے سمیٹے۔ کیونکہ اس کا خیال یہ ہوتا ہے کہ جو میرے پاس ہے وہی میرا ہے، اور جو دوسرے کے پاس چلا گیا وہ میرا نہیں رہا۔ اس لیے اپنے فائدہ کو محفوظ رکھنے کے لیے دوسرے کے ساتھ وہ تنگ نظری کا معاملہ کرنے لگتا ہے۔ اس سلسلہ میں دونوں فریقوں کو یہ حکم دیا گیا کہ : وَأْتَمِرُوا بَيْنَكُم بِمَعْرُوفٍ (65: 6)۔ یعنی، اور تم آپس میں ایک دوسرے کو نیکی سکھاؤ۔ اس روش میں بظاہر اپنے لیے گھاٹے کی صورت دکھائی دے رہی تھی، چنانچہ فرمایا کہ حوصلہ سے کام لو، اللہ تمہارے لیے مشکل کے بعد آسانی پیدا فرمائے گا: يَجْعَل لَّهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا (65:7)۔ اس ہدایت کا تعلق صرف طلاق کے معاملہ سے نہیں ہے بلکہ زندگی کے تمام نزاعی معاملات سے ہے۔ جب بھی کسی مرد اور کسی عورت کے درمیان لین دین پر جھگڑا پیدا ہو تو ہر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader