انتظار کیجیے
Urdu book, p. 303
By Maulana Wahiduddin Khan
ایسے معاملہ میں لینے کے ساتھ دینے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔ اس روش کے نتیجہ میں اگر کچھ نقصان دکھائی دے تو اس کو وقتی سمجھ کر اس پر راضی ہو جانا چاہیے اور یہ یقین رکھنا چاہیے کہ مستقبل میں اضافہ کے ساتھ اس کے نقصان کی تلافی کی جائے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا میں انتظار بھی ایک مستقل پالیسی ہے۔ دنیا کا نظام جس قانون الہیٰ کی بنیاد پر چل رہا ہے وہ یہ ہے کہ یہاں لازماً ہر شام کے بعد نئی صبح نمودار ہو۔ لوگ شر پھیلائیں تب بھی اس میں سے خیر برآمد ہو۔ کسی کو نقصان کا تجربہ ہو تب بھی زمانہ کی گردش دوبارہ اس کے لیے نفع کی صورتیں پیدا کر دے۔ اس دنیا میں انتظار سادہ طور پر محض انتظار نہیں ہے، وہ شام کے بعد صبح کے انتظار کے ہم معنی ہے۔ وہ خدائی نظام سے اس چیز کو پانے کی امید کرنا ہے جس کو آدمی اپنی طاقت سے حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ انتظار بے عملی نہیں، انتظار خود ایک عمل ہے۔ اگرچہ یہ ذہنی عمل زیادہ تر سوچ کی سطح پر انجام پاتا ہے۔ صبح کو کوئی کھینچ کر نہیں لاتا۔ وہ کسی کو صرف انتظار کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہے۔ کھیت اور باغ کی فصل جو ایک کسان کو ملتی ہے وہ بھی انتظار کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ کسان صرف یہ کرتا ہے کہ وہ زمین میں بیج ڈال دیتا ہے۔ اس کے بعد ہزاروں ہزار ضروری عمل ہیں جن کو فطرت بطور خود انجام دیتی ہے۔ کسان گویا زرخیز زمین میں بیج ڈال کر انتظار کرتا ہے کہ کب وہ وقت آئے جب زمین و آسمان کا نظام اپنے عمل کو مکمل کرے اور قیمتی فصل اگا کر اس کے دامن میں ڈال دے۔ یہی اصول زندگی کے تمام معاملات کے لیے ہے۔ قرآن کا یہ ارشاد کہ اللہ مشکل کے بعد آسانی پیدا فرمائے گا (65:7)۔ ایک عام قانون فطرت کا اعلان ہے، ایک ایسا قانون فطرت جو ہمیشہ اپنا کام کرتا ہے، جس میں کبھی تغیر واقع نہیں ہوتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader