Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 309

By Maulana Wahiduddin Khan

آجاتا ہے۔ کبھی کسی کی بات اس کو اپنے حق میں تو ہین آمیز معلوم ہوتی ہے۔ کبھی کسی کی ترقی کو دیکھ کر اس کے اندر جلن اور حسد کا جذبہ ابھر آتا ہے۔ کبھی اس کو یہ شبہ ہو جاتا ہے کہ فلاں کی موجودگی میں میں ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتی۔ کبھی اس کو یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ فلاں مرد یا عورت خواہ مخواه میرے راستہ کی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ کبھی اپنے بچوں کی بے جا محبت اور حمایت اس کو طرح طرح کی نادانیوں میں مبتلا کر دیتی ہے۔ یہ تمام چیزیں عورت کی دنیا اور آخرت کو تباہ کرنے والی ہیں۔ عورت کو ان تمام چیزوں کو نظر انداز کرنا ہے، اس کو ان تمام جذبات سے اوپر اٹھنا ہے، ورنہ عورت اپنا وہ عظیم کردار ادا کرنے میں ناکام رہے گی جس کا سنہری موقع نظام فطرت نے اس کے لیے مہیا کیا ہے۔ تاریخ میں بہت سی ایسی خواتین گزری ہیں جنہوں نے نہایت اعلیٰ کارنامے انجام دیے، گھر کے اندر بھی اور گھر کے باہر بھی۔ مگر یہ تمام وہی خواتین تھیں جن کے اندر بلند نظری کی صفت تھی۔ جو اپنے آپ کو نفسیاتی پیچیدگیوں سے اوپر اٹھانے میں کامیاب ہو گئی تھیں۔ شکایت کی باتوں میں الجھنا آپ کی ترقی کے سفر کو روکتا ہے۔ اور شکایت کو نظر انداز کرکے لوگوں سے اچھا معاملہ کرنا آپ کو اعلیٰ درجات تک پہنچا دیتا ہے۔ سب سے زیادہ صحیح بخاری میں ایک حدیث آئی ہے۔ مؤلف کتاب نے اپنے طریقہ کے مطابق اس کو کئی ابواب میں نقل کیا ہے۔ کتاب الکسوف میں جو روایت آتی ہے اس کا ایک حصہ یہ ہے: وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ قَالُوا: لِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: بِكُفْرِهِنَّ. قِيلَ: يَكْفُرْنَ بِاللهِ؟ قَالَ: يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page