سب سے زیادہ
Urdu book, p. 310
By Maulana Wahiduddin Khan
الإِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5197)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ کو جہنم دکھائی گئی تو میں نے اس سے زیادہ قبیح منظر کبھی نہیں دیکھا۔ اور میں نے دیکھا کہ اس میں زیادہ تر عورتیں ہیں۔ لوگوں نے پوچھا کہ کیوں اے خدا کے رسول، آپ نے فرمایا کہ اپنے کفر کی وجہ سے۔ پوچھا گیا کہ کیا وہ اللہ کا کفر کرتی ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ وہ اپنے شوہر (قریبی فرد) کا انکار کرتی ہیں۔ وہ احسان کا انکار کرتی ہیں۔ اگر تم ان میں سے کسی سے زمانہ بھر احسان کرو، پھر وہ تم سے کوئی خلاف مزاج بات دیکھے تو وہ کہہ دے گی کہ میں نے تم سے کبھی خیر نہیں دیکھا۔ عورت کی یہ کمزوری دراصل اس کی ایک فطری صلاحیت کا غلط استعمال ہے۔ عورت فطری طور پر زیادہ جذباتی (emotional) ہوتی ہے۔ اسی بنا پر ایسا ہے کہ اس کو جب کسی سے کوئی خلاف مزاج بات پہنچتی ہے تو وہ بہت جلد بے قابو ہو جاتی ہے۔ اس وقت وہ پچھلی تمام اچھی باتوں کو بھلا بیٹھتی ہے اور ایسے سخت کلمات بولنے لگتی ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ کبھی خیر یا مہربانی کا معاملہ ہی نہیں کیا گیا۔ اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کو دو الگ الگ کام کے لیے پیدا کیا ہے۔ مرد دنیا کے کاروبار کو سنبھالنے کے لیے ہے۔ اور عورت بچوں کی پرورش اور تربیت کے لیے۔ اسی کے مطابق دونوں کی سرشت بنائی گئی ہے۔ چنانچہ مرد میں عزم کی خصوصی صلاحیت ہے۔ تا کہ وہ باہر کے طوفانی حالات کے مقابلہ میں ٹھہر سکے۔ اور عورت کے اندر جذ بہ یا عاطفہ زیادہ رکھا گیا ہے، تا کہ بچوں کو سنبھالنے کا نازک کام اس کے لیے آسان ہو جائے۔ مرد اور عورت دونوں اس دنیا میں حالت امتحان میں ہیں۔ البتہ دونوں کے لیے امتحان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader