Urdu book · دینِ انسانیت

سب سے زیادہ

Urdu book, p. 311

By Maulana Wahiduddin Khan

کے پرچے کسی قدر الگ الگ ہیں۔ اس اعتبار سے مرد اور عورت دونوں میں انحراف پیدا ہوتا ہے مگر دونوں کے انحراف کی صورتیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مرد کا انحراف انانیت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور عورت کا انحراف، مذکورہ حدیث کے مطابق، بے اعترافی کی صورت میں، انانیت بھی ایک فطری صلاحیت کا غلط استعمال ہے اور بے اعترافی بھی ایک فطری صلاحیت کا غلط استعمال۔ یہ حدیث عورت کو متنبہ کر رہی ہے کہ وہ کون سا مقام ہے جہاں عورت سب سے زیادہ نازک پوزیشن میں ہے اور کس معاملہ میں اس کو سب سے زیادہ چوکس رہنا چاہیے ۔ یہ مقام وہ ہے جب کہ اس کا شوہر ( یا اس کے خاندان کا کوئی قریبی فرد ) کوئی ایسی چیز کرے یا کوئی ایسی بات کہہ دے جس سے عورت کے دل کو ٹھیس پہنچے۔ ایسے موقع پر عورت کے اندر شدید جذبات ابھر آتے ہیں ، حتیٰ کہ وہ بھول جاتی ہے کہ اس سے پہلے ہزاروں بار اسی شوہر ( یا کسی فرد خاندان ) سے اس کو بھلائی اور مہربانی ملی ہے۔ ایسے جذباتی موقع پر عورت جنت اور جہنم کے عین درمیان پہنچ جاتی ہے۔ اگر وہ جذبات کے وقتی جھٹکے کو برداشت کر لے اور وہ بات کہے جو انصاف کا تقاضا ہے تو اس کی یہ صابرانہ روش اس کے لیے جنت میں داخلہ کا ٹکٹ بن جائے گی۔ اس کے برعکس ، اگر ایسا ہو کہ جذبات اس کے اوپر غالب آجائیں ، وہ احسان فراموشی کے کلمات بولنے لگے یا قطع تعلق کر بیٹھے تو ایسی روش اس کو جہنم کی آگ میں داخل کرنے کا سبب بن جائے گی۔ اس دنیا میں ہر عورت اور ہر مرد امتحان کی حالت میں ہے۔ یہاں ہر ایک کو سب سے زیادہ اس بات کے لیے چوکس رہنا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کے لیے امتحان کا لمحہ آئے اور وہ اس امتحانی لمحہ پر فیل ہو جائے ، وہ اپنی کامیابی کا ثبوت نہ دے سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page