دینِ انسانیت
Urdu book, p. 312
By Maulana Wahiduddin Khan
اس امتحان کا سب سے زیادہ نازک لمحہ وہ ہے جب کہ کسی عورت یا مرد پر جذبات کا غلبہ ہو جائے اور وہ جذبات کے زیر اثر صحیح روش پر قائم رہنے میں نا کام رہے۔ غلط فہمی صحیح مسلم کتاب الصلاة (باب ما يقال فى الركوع والسجود) میں ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے۔ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ عائشہؓ نے بتایا کہ ایک رات کو میں نے رسول اللہؐ کو اپنے پاس نہ پایا۔ میں نے گمان کیا کہ آپ اپنی کسی اور بیوی کے پاس گئے ہیں۔ چنانچہ میں نے آپ کو ڈھونڈا۔ پھر میں لوٹی تو آپ رکوع یا سجدہ میں تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ خدایا، تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ یہ دیکھ کر میں نے کہا کہ میرے باپ اور ماں آپ پر قربان، میں کس خیال میں تھی اور آپ کسی اور حال میں ہیں: عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: افْتَقَدْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ. فَتَحَسَّسْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ - أَوْ سَاجِدٌ - يَقُولُ: سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ. فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، إِنِّي لَفِي شَأْنٍ وَإِنَّكَ لَفِي آخَرَ ( صحیح مسلم ، حدیث نمبر 485 ) ۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ غلط فہمی کتنی خطر ناک چیز ہے۔ حضرت عائشہؓ ہر لحاظ سے ایک افضل خاتون تھیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت پیغمبر اعظم کی تھی، اس کے باوجود حضرت عائشہؓ کو آپ کے بارے میں ایک ایسی غلط فہمی ہو گئی جس کا سرے سے کوئی وجود نہ تھا۔ حضرت عائشہؓ نے رات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے حجرہ میں نہیں پایا تو انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ آپ کسی اور بیوی کے یہاں چلے گئے ہیں، حالانکہ آپ اس وقت مسجد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader