غلط فہمی
Urdu book, p. 313
By Maulana Wahiduddin Khan
میں تھے۔ چونکہ یہ رات کا وقت تھا، حضرت عائشہؓ نے رسول اللہؐ کی غیر موجودگی سے یہ قیاس کیا کہ آپ کو اپنی کسی زوجہ کی یاد آئی اور آپ وہاں چلے گئے ۔ حالانکہ اصل بات یہ تھی کہ آپ کو خدا کی یاد آئی تھی اور آپ خدا کے آگے رکوع و سجود کے لیے مسجد میں چلے گئے تھے۔ غلط فہمی ہمیشہ کسی ظاہری مشابہت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ مگر مذکورہ واقعہ بتاتا ہے کہ بظاہر مشابہت کے باوجود، غلط فہمی کتنی زیادہ بے اصل ہو سکتی ہے۔ گھر یلو زندگی میں جو بگاڑ پیدا ہوتے ہیں اور جو کبھی کبھی اتنا بڑھتے ہیں کہ پورا خاندانی نظام منتشر ہو جاتا ہے، ان کا سبب بیشتر حالات میں غلط فہمی ہوتا ہے۔ غلط فہمی پیدا ہونے کے بعد اگر سنجیدگی کے ساتھ اس کی تحقیق کی جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ محض بے بنیاد تھی۔ اس طرح پہلے ہی مرحلہ میں اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔ لیکن اکثر لوگ غلط فہمی کی تحقیق نہیں کرتے۔ اس طرح ایک بے بنیاد چیز بڑھ کر بگاڑ کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ مذکورہ واقعہ ہر عورت اور ہر مرد کے لیے ایک چشم کشا واقعہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک مقدس خاتون جب غلط فہمی میں پڑ سکتی ہے تو عام عورت اور عام مرد کیوں غلط فہمی میں نہیں پڑیں گے۔ اس لیے جب بھی کسی کے خلاف کوئی برا خیال ذہن میں آئے تو کبھی اس کو دل میں بٹھانا نہیں چاہیے۔ بلکہ اس کی تحقیق کرنا چاہیے۔ اور تحقیق کے بعد جو بات سامنے آئے اس کو فوراً مان لینا چاہیے۔ اس طرح گھر کی زندگی بگاڑ اور انتشار سے بچی رہے گی۔ غلط فہمی کا صرف یہی نقصان نہیں ہے کہ وہ گھر کے نظام کو بگاڑنے والی ہے، اسی کے ساتھ وہ ایک سخت گناہ بھی ہے۔ کسی کے بارے میں ایسا گمان کر لینا جو فی الواقع درست نہ ہو، وہ اللہ کو بے حد ناپسند ہے۔ حتی کہ یہ بھی اندیشہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں عورت یا مرد کے سارے اعمال ضائع ہو جائیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader